پی ایس ایل کو اس بار مزید شہروں میں لے کر جائیں گے: چیئرمین پی سی بی

0
32
پی ایس ایل کو اس بار مزید شہروں میں لے کر جائیں گے: چیئرمین پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی گورننگ کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں لیگ کے 12ویں سیزن کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ایس ایل 12 18 مارچ سے 2 مئی تک ہوگا جب کہ کھلاڑیوں کی نیلامی 23 جنوری کو ہوگی۔

فرنچائزز کو پی ایس ایل 12 کے لیے ایک مارکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔تاہم ایک شرط یہ ہے کہ متعلقہ کھلاڑی نے گزشتہ دو سیزن میں پی ایس ایل نہ کھیلا ہو۔

گورننگ کونسل کے فیصلے کے مطابق 23 اکتوبر سے 23 نومبر تک کھلاڑیوں کے براہ راست دستخط کا سلسلہ جاری رہے گا، اس دوران تمام فرنچائزز اپنے سکواڈز کو مضبوط کرنے کے لیے مارکی پلیئرز کے انتخاب پر کام کر سکیں گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پی ایس ایل کے میچز اس بار ملک کے پانچ سے چھ شہروں میں کرائے جائیں گے جس کا مقصد لیگ کو مزید شہروں تک پھیلانا ہے۔ اس حوالے سے پی سی بی حکام نے لیگ کا دائرہ کار وسیع کرنے اور شائقین کو اپنے شہروں میں میچ دیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پی ایس ایل کی تیاری کے سلسلے میں آئندہ ہفتے کرکٹ ورکشاپ منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ پی ایس ایل سے قبل نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے گولڈ اور سلور میچز کرائے جائیں گے۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل پاکستان میں کرکٹ کا سب سے بڑا اسٹیج ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیگ کے آخری سیزن میں شائقین کی ریکارڈ تعداد میں آمد کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ اس بار پی ایس ایل کو مزید شہروں میں لے جایا جائے گا، تاکہ ملک میں کرکٹ کے فروغ کے ساتھ ساتھ شائقین کو مزید مواقع فراہم کیے جاسکیں۔

دوسری جانب پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ فرنچائزز کی جانب سے سکواڈ بنانے کی دوڑ آج سے شروع ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی براہ راست دستخط اور آئندہ نیلامی کے مراحل فرنچائزز کے لیے اہم ہوں گے۔

پی ایس ایل 12 کے لیے کیے گئے فیصلوں سے فرنچائزز کو اپنے اسکواڈز کی تیاری کا جلد موقع ملے گا جب کہ ٹیم کی تشکیل کا عمل 23 جنوری کو ہونے والی نیلامی کے بعد ہوگا۔

Leave a reply