ٹرمپ کا کینیڈا کو نیا پیغام، آخر معاملہ کہاں جا پہنچا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کا حصہ بنے بغیر امریکی ریاست کو حاصل مراعات چاہتا ہے، تاہم ایسا قابلِ قبول نہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کینیڈا کی تجارتی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ کینیڈا طویل عرصے سے امریکی کسانوں کی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرتا رہا ہے۔
امریکی صدر ماضی میں متعدد بار کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان بیانات پر کینیڈین حکومت اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر نئے محصولات عائد کیے ہیں، جبکہ کینیڈا نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی اشیا پر محصولات لگانے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام کو کینیڈا کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک امریکی محصولات کا جواب دے گا۔ ان کے مطابق اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات اور الیکٹرانکس سمیت متعدد امریکی مصنوعات کو جوابی محصولات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کارنی کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے ایسے مطالبات کیے گئے جنہیں کینیڈا کے لیے قبول کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی تجارتی حکام نے کینیڈا پر مذاکرات کے دوران اضافی مطالبات کرنے اور پہلے سے طے شدہ شرائط سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن بعض محصولات میں کمی پر آمادہ تھا، تاہم فی الحال مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ نہیں۔
تجارتی کشیدگی پر امریکا کے بڑے کاروباری اداروں کے نمائندوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے محصولات سے کاروباری اخراجات اور صارفین کے لیے اشیا کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، اس لیے دونوں ممالک کو اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔









