ویرات کوہلی کا ایک اور بڑا کارنامہ، ون ڈے میں 15 ہزار رنز مکمل

0
22
ویرات کوہلی کا ایک اور بڑا کارنامہ، ون ڈے میں 15 ہزار رنز مکمل

تھروواننتھاپورم: بھارتی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار بلے باز ویرات کوہلی نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرلیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ون ڈے میں کوہلی نے 15 ہزار رنز مکمل کرکے یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے دوسرے تیز ترین بلے باز ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

کوہلی نے ہدف کے تعاقب کے دوران اننگز کے 29ویں اوور میں الزاری جوزف کی گیندوں پر مسلسل تین چوکے لگا کر 15 ہزار ون ڈے رنز کا ہندسہ عبور کیا۔

اس میچ سے قبل کوہلی 314 ون ڈے میچز کی 302 اننگز میں 14 ہزار 941 رنز بنا چکے تھے اور انہیں 15 ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے 59 رنز درکار تھے۔

ون ڈے کرکٹ میں اس سنگِ میل تک سب سے پہلے پہنچنے والے بھارتی لیجنڈ سچن ٹنڈولکر تھے۔ ٹنڈولکر نے 15 ہزار رنز کا ہندسہ 377ویں اننگز میں عبور کیا، جبکہ کوہلی نے یہ کارنامہ 303ویں اننگز میں انجام دیا۔ یوں کوہلی نے یہ سنگِ میل ٹنڈولکر سے 74 اننگز پہلے حاصل کیا۔

15 ہزار رنز مکمل کرنے والے بلے باز

سچن ٹنڈولکر نے اپنے ون ڈے کیریئر میں 18 ہزار 426 رنز بنائے، جبکہ کوہلی 15 ہزار رنز مکمل کرنے کے بعد اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آگئے ہیں۔

کوہلی سے قبل کئی بڑے بلے باز 15 ہزار رنز کے قریب پہنچے، تاہم ان میں سے کوئی بھی اس حد کو عبور نہ کرسکا۔ سری لنکا کے کمار سنگاکارا 14 ہزار 234، آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ 13 ہزار 704 اور سری لنکا کے سنتھ جے سوریا 13 ہزار 430 ون ڈے رنز کے ساتھ نمایاں ہیں۔

55ویں ون ڈے سنچری بھی مکمل

15 ہزار رنز کا سنگِ میل عبور کرنے کے بعد کوہلی نے اپنی اننگز کو سنچری میں تبدیل کیا اور ون ڈے کرکٹ میں 55ویں سنچری مکمل کرلی۔

یہ کوہلی کی ون ڈے کیریئر میں تیسری تیز ترین سنچری بھی قرار دی جارہی ہے۔ اس میچ سے پہلے ان کے ریکارڈ میں 54 سنچریاں اور 79 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف کوہلی کی عمدہ کارکردگی

ویسٹ انڈیز کے خلاف کوہلی کا ریکارڈ بھی نمایاں رہا ہے۔ پہلے ون ڈے سے قبل وہ اس ٹیم کے خلاف 43 میچز میں 2 ہزار 261 رنز بنا چکے تھے، جن میں 9 سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

تھروواننتھاپورم کا گرین فیلڈ اسٹیڈیم بھی کوہلی کے لیے خاص ثابت ہوا ہے۔ اس مقام پر وہ اس سے قبل دو ون ڈے میچز میں 199 رنز بنا چکے تھے اور دونوں مرتبہ ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

جارحانہ انداز میں تبدیلی

حالیہ عرصے میں کوہلی کی بیٹنگ میں جارحانہ انداز نمایاں ہوا ہے۔ وہ اننگز کو طویل کرنے کے ساتھ ساتھ موقع ملتے ہی باؤنڈریز کے ذریعے رنز بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

کوہلی کے مطابق موجودہ مرحلے میں وہ اپنے کھیل میں مزید بہتری لانے اور ایک نیا انداز اپنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مثبت کرکٹ کھیلنا ان کی ترجیح ہے، تاہم وہ غیر ضروری خطرات سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔

بھارتی بلے باز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تجربہ کار کھلاڑی کی حیثیت سے انہیں جارحانہ کرکٹ اور محتاط شاٹس کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ ٹیم کو کامیابی کی جانب لے جایا جاسکے۔

ریکارڈز سے زیادہ ٹیم پر توجہ

کوہلی کا کہنا ہے کہ ذاتی ریکارڈز اور سنگِ میل ان کی بنیادی ترجیح نہیں، بلکہ ان کی توجہ میچ کی صورتحال کو سمجھنے اور ٹیم کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے پر رہتی ہے۔

انہوں نے فٹنس کو بھی اپنی موجودہ بیٹنگ کا اہم حصہ قرار دیا۔ کوہلی کے مطابق جسمانی طور پر فٹ رہنے سے انہیں میدان میں اپنی حکمت عملی پر بہتر انداز میں عمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

2027 ورلڈ کپ پر نظریں

ٹیسٹ اور ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کوہلی کی توجہ اب ون ڈے کرکٹ پر مرکوز ہے۔ وہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھارت کی نمائندگی کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں اور اسے اپنا آخری ورلڈ کپ قرار دے چکے ہیں۔

کوہلی کی خواہش ہے کہ بھارت 2027 کا ورلڈ کپ جیتے اور وہ اس کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اگر انہیں ورلڈ کپ فائنل میں ٹیم کے لیے میچ جتوانے والی اننگز کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو یہ ان کے کیریئر کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک ہوگا۔

تاہم کوہلی کے مطابق ان کے لیے سب سے اہم بات بھارت کی کامیابی ہے، خواہ فیصلہ کن کردار ان کا ہو یا ٹیم کے کسی دوسرے کھلاڑی کا۔

Leave a reply