
وزن کم کرنے والی ادویات کے بڑھتے استعمال کے ساتھ وٹامنز اور غذائی سپلیمنٹس کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، تاہم طبی ماہرین نے ان مصنوعات کے معیار، حفاظت اور سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعووں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اوزیمپک اور ویگووی جیسی جی ایل پی ون ادویات استعمال کرنے والے بعض افراد معدے کے مسائل، کمزوری اور غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف سپلیمنٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر، پروٹین، کولیجن اور الیکٹرولائٹس بعض افراد کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن ہر سپلیمنٹ ہر شخص کے لیے ضروری یا محفوظ نہیں ہوتا۔ ان کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے، خصوصاً ایسی ادویات لینے والے افراد کو احتیاط کرنی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر انفلوئنسرز کی تشہیر سپلیمنٹس کی فروخت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم، مصنوعات کے فوائد سے متعلق تمام دعووں کی سائنسی تصدیق ضروری ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ صارفین سپلیمنٹس خریدنے سے پہلے اجزا، معیار اور ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ متوازن غذا، مناسب پانی اور طبی رہنمائی کو ترجیح دینا ضروری ہے، جبکہ غیر مصدقہ مصنوعات سے گریز کیا جانا چاہیے۔









