
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ابتدائی دو گروپ میچوں کے بعد گولڈن بوٹ کی دوڑ خاصی دلچسپ صورت اختیار کر گئی ہے۔ ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سب سے آگے ہیں، جبکہ فرانس کے کیلیان ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 4،4 گولز کے ساتھ ان کے قریب موجود ہیں۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں جاری ٹورنامنٹ میں کئی بڑے نام ابتدائی مرحلے ہی میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ جرمنی کے ڈینیز اونداو اور کینیڈا کے جوناتھن ڈیوڈ 3،3 گولز کر چکے ہیں، جبکہ انگلینڈ کے ہیری کین، پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو، برازیل کے ونیسیئس جونیئر اور اسپین کے میکل اویارزابال سمیت متعدد کھلاڑی دو، دو گول اسکور کر چکے ہیں۔
کیا اس بار 10 سے زیادہ گولز درکار ہوں گے؟
موجودہ گول اسکورنگ کی رفتار کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ اس مرتبہ گولڈن بوٹ جیتنے کے لیے دو ہندسوں میں گولز درکار ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ہیں جب کسی کھلاڑی نے ایک ہی ایڈیشن میں 10 یا اس سے زیادہ گولز کیے ہوں۔
فرانس کے جسٹ فونٹین کا 1958 میں قائم کردہ 13 گولز کا ریکارڈ آج بھی برقرار ہے، جبکہ ہنگری کے سینڈور کوچیش اور جرمنی کے گیرڈ مولر بھی ایک ہی ورلڈ کپ میں 10 سے زائد گولز کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔
زیادہ میچز، زیادہ مواقع
ورلڈ کپ 2026 میں پہلی بار 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جس کے باعث سیمی فائنل تک پہنچنے والی ٹیموں کو 8 میچ کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اضافی میچز کی وجہ سے گول اسکوررز کو بھی نئے ریکارڈ قائم کرنے کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے۔
گولز کی بارش کیوں؟
ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں گولز کی شرح غیرمعمولی رہی ہے۔ پہلے 45 میچوں میں 139 گولز اسکور ہو چکے ہیں، جو ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے آغاز کا نیا ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ نئی میچ بال، شدید گرمی میں واٹر بریکس کی سہولت، اور 48 ٹیموں کے فارمیٹ کے باعث مضبوط اور نسبتاً کمزور ٹیموں کے درمیان زیادہ مقابلے شامل ہیں۔
گولڈن بوٹ کا سب سے مضبوط امیدوار کون؟
موجودہ صورتحال میں لیونل میسی گولڈن بوٹ کے سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مسلسل عمدہ فارم میں ہیں اور گزشتہ ورلڈ کپ کی کارکردگی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم کیلیان ایمباپے اور ایرلنگ ہالینڈ بھی اس دوڑ میں پوری طرح شامل ہیں اور آئندہ میچز نتائج کا رخ تبدیل کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ہیری کین، ونیسیئس جونیئر اور دیگر بڑے فارورڈز بھی اپنے گولز کی تعداد بڑھانے کی کوشش کریں گے، جس سے گولڈن بوٹ کی دوڑ مزید سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
ورلڈ کپ 2026 کے اگلے مرحلوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا کوئی کھلاڑی 10 یا اس سے زیادہ گولز کا ہندسہ عبور کر کے تاریخ رقم کر پاتا ہے یا نہیں۔









