نیپال کا تباہ کن سیلاب: ہمالیہ میں بدلتے ماحول نے پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی

نیپال میں 26 اگست کو آنے والے شدید سیلاب اور ملبے کے ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جان سے گئے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ محض اچانک آنے والی قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ ہمالیائی خطے میں کئی برس سے جاری ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس خطرے کو بڑھا دیا تھا۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، برفانی جھیلوں میں پانی بڑھنے اور پہاڑی ڈھلوانوں کے غیر مستحکم ہونے سے ایسے واقعات کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جا چکا تھا۔
نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کا ایک بڑا ریلا دریائی نظام میں داخل ہوا اور انتہائی تیزی سے نیپال کی جانب بڑھا۔ اس دوران متعدد آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
ابتدائی طور پر واقعے کو ممکنہ زلزلے سے جوڑا گیا، تاہم ابتدائی سائنسی جائزوں میں گلیشیئر کے ٹوٹنے اور اس کے نتیجے میں برف، چٹانوں اور ملبے کے بڑے پیمانے پر نیچے آنے کو اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلنے سے پہاڑی علاقوں میں موجود برفانی جھیلوں کا حجم بڑھ سکتا ہے۔ اگر کسی جھیل کی قدرتی رکاوٹ کمزور ہو کر ٹوٹ جائے تو اچانک بڑی مقدار میں پانی نیچے کی جانب بہہ سکتا ہے، جسے گلیشیئر جھیل کے پھٹنے سے پیدا ہونے والا سیلاب کہا جاتا ہے۔
سائنسی مطالعات پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ہندوکش ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران گلیشیئرز کے رقبے اور برف کے ذخیرے میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ حالیہ برسوں میں برف پگھلنے کی رفتار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے صرف پانی کے ذخائر متاثر نہیں ہوتے بلکہ پہاڑی زمین بھی غیر مستحکم ہو سکتی ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ، چٹانیں گرنے اور ملبے کے اچانک ریلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہمالیہ کے گلیشیئر نیپال تک محدود نہیں۔ ان سے نکلنے والا پانی گنگا، برہم پتر اور دریائے سندھ سمیت خطے کے بڑے دریائی نظاموں کا حصہ بنتا ہے، جن پر زراعت، بجلی اور کروڑوں افراد کی زندگی کا انحصار ہے۔
نیپال کا حالیہ سانحہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب صرف سائنسی رپورٹس تک محدود نہیں رہے بلکہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے براہِ راست خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ کے گلیشیئرز، برف، دریاؤں اور پہاڑی زمین کے قدرتی توازن کو متاثر کر رہا ہے، جس کے باعث مستقبل میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور برف و ملبے کے تباہ کن ریلوں کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔









