نیپال سیلاب: سینکڑوں نامعلوم لاشیں، شناخت کا پراسرار منصوبہ سامنے آگیا

0
18
نیپال سیلاب: سینکڑوں نامعلوم لاشیں، شناخت کا پراسرار منصوبہ سامنے آگیا

نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد بڑی تعداد میں برآمد ہونے والی ناقابلِ شناخت لاشوں کی تدفین شروع کردی گئی ہے، تاہم حکام نے مستقبل میں ان لاشوں کی شناخت ممکن بنانے کیلئے باقاعدہ ریکارڈنگ اور ڈی این اے محفوظ کرنے کا نظام ترتیب دیا ہے۔
سیلاب نے نیپال کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے بعد سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں لاپتا ہیں۔ سب سے زیادہ لاشیں جنوبی نیپال کے ضلع چتوان سے برآمد ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق شدید گرمی، محدود طبی سہولیات اور لاشوں کی بڑھتی تعداد کے باعث انہیں زیادہ دیر تک اسپتالوں یا عارضی کولنگ مراکز میں رکھنا ممکن نہیں رہا۔ ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ لاشوں کے گلنے سڑنے سے صحت اور صفائی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
اسی صورتحال کے پیش نظر نامعلوم لاشوں کو دفن کرنے سے قبل ان کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ہر لاش کو ایک منفرد حوالہ نمبر بھی دیا جا رہا ہے، جبکہ لاش کی برآمدگی کی جگہ سمیت تمام ضروری معلومات سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنائی جا رہی ہیں۔
تدفین کے دوران بھی شناخت کا نظام برقرار رکھنے کیلئے ہر لاش کو الگ بیگ میں رکھا جا رہا ہے، جس پر اس کا شناختی نمبر درج ہوگا۔ قبروں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اگر کسی لاش کی شناخت ہوجائے تو اسے دوسری قبروں کو متاثر کیے بغیر نکالا جاسکے۔
تدفین کی جگہوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی محفوظ کی جا رہی ہیں، جبکہ قبروں کی درست نشاندہی کیلئے جیو ٹیگنگ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تدفین کے مقامات پر شناختی نمبروں کے ساتھ مستقل نشانات لگانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق لاپتا افراد کے اہل خانہ مختلف اسپتالوں میں اپنے ڈی این اے نمونے جمع کراسکیں گے۔ ان نمونوں کو برآمد ہونے والی نامعلوم لاشوں کے ڈی این اے پروفائلز سے ملایا جائے گا۔
اگر کسی شخص کے خاندان کا ڈی این اے کسی لاش سے مطابقت رکھتا ہے تو متعلقہ شناختی نمبر کی مدد سے اس کی تدفین کی جگہ معلوم کی جائے گی۔ اس کے بعد لاش کو قبر سے نکال کر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اہل خانہ کے حوالے کیا جاسکے گا۔
نیپالی پولیس نے نامعلوم لاشوں سے متعلق معلومات آن لائن بھی فراہم کرنا شروع کردی ہیں تاکہ لاپتا افراد کے اہل خانہ دستیاب ریکارڈ سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں۔
حکام کے مطابق بڑی تعداد میں افراد تاحال لاپتا ہیں اور سرچ آپریشن کے ساتھ ساتھ لاشوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے اور جیو ٹیگنگ سمیت محفوظ کیے گئے ریکارڈ مستقبل میں متاثرین کی شناخت اور ان کے اہل خانہ کو لاشیں واپس کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Leave a reply