
امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک جدید سالِڈ اسٹیٹ بیٹری کی آزمائش کی ہے جو شدید سرد ماحول میں بھی اپنی ساخت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں چاند پر انسانی مشنز کے لیے توانائی کی فراہمی کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ زمین پر برقی گاڑیوں کی بیٹریوں کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹ انٹرسٹنگ انجینئرنگ کی رپورٹ کے مطابق، ناسا کے اسپیئرز منصوبے کے تحت اس بیٹری کو انتہائی کم درجہ حرارت میں جانچا گیا۔ تھرمل ویکیوم ٹیسٹ کے دوران بیٹری نے منفی 170 ڈگری سینٹی گریڈ تک سردی برداشت کی اور اسے ساختی نقصان نہیں پہنچا۔
آزمائش میں بیٹری منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ پر بھی کام کرتی رہی، تاہم اس کی کارکردگی میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی نسبتاً بہتر کارکردگی منفی 60 سے مثبت 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر استعمال ہونے والی گاڑیوں، سائنسی آلات اور ہنگامی نظاموں کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔
تاہم، یہ واضح رہے کہ فی الحال بیٹری کے صرف تجربہ گاہ میں تیار کردہ نمونے آزمائے گئے ہیں اور اسے ابھی خلا میں نہیں آزمایا گیا۔ عملی استعمال سے پہلے اس ٹیکنالوجی پر مزید تحقیق اور تجربات درکار ہوں گے۔









