
پاکستانی فلم انڈسٹری میں اکثر کراچی اور خصوصاً لیاری کو جرائم، خوف اور تشدد کے پس منظر میں دکھایا جاتا رہا ہے، مگر نئی فلم میرا لیاری ایک مختلف زاویہ پیش کرتی ہے۔ یہ فلم صرف اسپورٹس ڈرامہ نہیں بلکہ ایک سماجی کہانی ہے جو لیاری کے نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں، کے خواب، جدوجہد اور فٹبال سے وابستگی کو اجاگر کرتی ہے۔
فلم میں اداکارہ عائشہ عمر نے نہ صرف مرکزی کردار ادا کیا ہے بلکہ بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی اس منصوبے کا حصہ رہی ہیں۔ ان کے مطابق فلم کسی پروپیگنڈے کا جواب نہیں بلکہ لیاری کی اصل زندگی کو سامنے لانے کی کوشش ہے۔
اداکارہ دنانیر مبین اس فلم میں ایک ایسے کردار میں نظر آتی ہیں جو سماجی رکاوٹوں کے باوجود اپنے خواب پورے کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ فلم میں ان کے کردار کو سوشل میڈیا پر بھی کافی سراہا جا رہا ہے۔
کہانی ایک معذور فٹبال کوچ کے گرد گھومتی ہے جو برسوں بعد لیاری واپس آکر لڑکیوں کی فٹبال ٹیم بناتی ہے۔ فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوان لڑکیاں گھریلو دباؤ اور سماجی مسائل کے باوجود کھیل کو اپنی شناخت اور آزادی کا ذریعہ بناتی ہیں۔
ہدایتکار ابو علیحہ نے فلم کی شوٹنگ حقیقی لیاری میں کی جبکہ کاسٹ کا بڑا حصہ مقامی افراد پر مشتمل ہے۔ یہی عنصر فلم کو حقیقت کے قریب لاتا ہے اور اسے روایتی فلمی انداز سے مختلف بناتا ہے۔
فلم کی کاسٹ میں سمیعہ ممتاز، نایئر اعجاز، پارس مسرور، عدنان شاہ ٹیپو اور شعیب حسن بھی شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر فلم کو مثبت ردعمل ملا ہے۔ کئی صارفین نے اسے امید، خواتین کی آزادی اور لیاری کی نئی شناخت کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض افراد نے سوال اٹھایا کہ کیا فلم میں دکھایا گیا ماحول حقیقت کے مکمل قریب ہے یا نہیں۔
فلم کو عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ یوکے ایشین فلم فیسٹیول کے 28ویں ایڈیشن میں میرا لیاری کی نمائش پاکستانی سینما کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فلم مکمل نہ سہی مگر ایک اہم کوشش ضرور ہے، کیونکہ یہ لیاری کو صرف خبروں کا موضوع نہیں بلکہ انسانوں، خوابوں اور جدوجہد کی ایک زندہ کہانی کے طور پر پیش کرتی ہے۔








