
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ “کال فارورڈنگ” کے ذریعے ہیکرز صارفین کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دعوے میں صارفین کو کہا جا رہا ہے کہ وہ مخصوص کوڈز ڈائل کر کے اپنی کال فارورڈنگ چیک یا بند کریں۔
ماہرین کے مطابق اس معاملے میں کچھ باتیں درست ہیں، لیکن کئی تفصیلات کو غلط یا مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
کال فارورڈنگ کیا ہے؟
کال فارورڈنگ موبائل نیٹ ورک کی ایک عام سہولت ہے جس کے ذریعے آنے والی کالز کسی دوسرے نمبر پر منتقل کی جا سکتی ہیں۔ یہ فیچر اکثر صارف خود بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً جب فون بند ہو یا نیٹ ورک نہ ہو۔
فراڈ کیسے کیا جاتا ہے؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کچھ دھوکہ باز افراد خود کو بینک نمائندہ یا کسی سروس کمپنی کا اہلکار ظاہر کر کے صارفین کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے فون پر مخصوص کوڈ ڈائل کریں۔ ان کوڈز کا مقصد بعض صورتوں میں کال فارورڈنگ یا دیگر سروس سیٹنگز کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہے کہ:
کال فارورڈنگ صرف فون کالز کو متاثر کرتی ہے، نہ کہ عام طور پر ایس ایم ایس یا بینک او ٹی پی کو براہِ راست۔
بینک او ٹی پی کی حفاظت زیادہ تر آپ کے سم کارڈ اور موبائل نیٹ ورک سیکیورٹی پر منحصر ہوتی ہے، نہ کہ صرف کال فارورڈنگ پر۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
اصل خطرات زیادہ تر ان طریقوں سے ہوتے ہیں:
جعلی کالز یا فشنگ کے ذریعے معلومات حاصل کرنا
سم سویپ فراڈ (SIM تبدیل کروا لینا)
صارف سے او ٹی پی یا پن خود حاصل کر لینا
کیا کوڈز ڈائل کرنے چاہئیں؟
عام GSM نیٹ ورک میں کچھ معیاری کوڈز ہوتے ہیں جیسے:
*#21# (کال فارورڈنگ اسٹیٹس چیک کرنے کے لیے)
##002# (تمام کال فارورڈنگ بند کرنے کے لیے)
یہ کوڈز عموماً محفوظ سمجھے جاتے ہیں، لیکن انہیں کسی انجان شخص کے کہنے پر استعمال کرنا مناسب نہیں۔
محفوظ رہنے کے طریقے
کسی بھی نامعلوم کال پر دیے گئے کوڈز ہرگز ڈائل نہ کریں
او ٹی پی، پن یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں
بینک یا اداروں کی آفیشل ایپس اور نمبرز استعمال کریں
مشکوک سرگرمی کی صورت میں اپنے موبائل نیٹ ورک آپریٹر سے رابطہ کریں
نتیجہ
کال فارورڈنگ خود ایک عام اور محفوظ فیچر ہے، لیکن اس کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر کے فراڈ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اصل تحفظ صارف کی احتیاط اور آگاہی میں ہے۔
یاد رکھیں: کسی بھی فوری یا خوفزدہ کرنے والی کال پر دیے گئے ہدایات پر عمل کرنے سے پہلے تصدیق ضرور کریں۔








