مریم نواز کے دورۂ لندن کے سرکاری طیارے کے اخراجات ادا، خزانے میں 2 کروڑ 71 لاکھ روپے جمع

0
0
مریم نواز کے دورۂ لندن کے سرکاری طیارے کے اخراجات ادا، خزانے میں 2 کروڑ 71 لاکھ روپے جمع

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نجی دورۂ لندن کے لیے استعمال کیے گئے سرکاری گلف اسٹریم جی 500 طیارے کے اخراجات پنجاب حکومت کے خزانے میں جمع کرا دیے گئے۔

مریم نواز رواں ماہ اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں۔ اس سفر کے لیے پنجاب حکومت کا گلف اسٹریم جی 500 استعمال کیا گیا تھا، جس پر سیاسی مخالفین اور دیگر حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے پہلے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ اپنے نجی دورے کے دوران سرکاری طیارے کے استعمال سے متعلق تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کریں گی۔ حکام کے مطابق سرکاری طریقہ کار کے تحت سفر مکمل ہونے کے بعد اخراجات کا حتمی حساب تیار کیا گیا۔

دستیاب معلومات کے مطابق 17 ستمبر کو عمر عباس نامی شہری کے ذریعے بینک آف پنجاب کا چیک جمع کرایا گیا، جس کے ذریعے 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے نیشنل بینک آف پاکستان کی ویلنشیا برانچ لاہور میں پنجاب حکومت کے خزانے کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔

ادائیگی کی رسید پر 18 ستمبر کی مہر کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے۔ پنجاب حکومت کی چیف ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹجسٹ عظمیٰ بخاری نے وضاحت کی کہ بینک میں چیک جمع ہونے کے بعد اس کی کلیئرنس اگلے روز ہوتی ہے۔

گلف اسٹریم جی 500 کے اخراجات کتنے ہیں؟

نجی طیاروں کے آپریٹنگ اخراجات میں صرف ایندھن شامل نہیں ہوتا بلکہ عملے کی تنخواہوں، انشورنس، ہینگر، دیکھ بھال، تربیت، جیٹ مینجمنٹ، لینڈنگ اور ہینڈلنگ سمیت متعدد مدات شامل ہوتی ہیں۔

نجی طیاروں سے متعلق ویب سائٹ لبرٹی جیٹ کے فراہم کردہ تخمینے کے مطابق گلف اسٹریم جی 500 کو سالانہ 200 گھنٹے اڑانے کی صورت میں مجموعی آپریٹنگ بجٹ تقریباً 18 لاکھ 13 ہزار 601 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

اسی حساب سے سالانہ اخراجات کو پورے سال پر تقسیم کیا جائے تو اوسط یومیہ لاگت تقریباً 4,969 ڈالر بنتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 14 لاکھ روپے کے برابر ہے۔

اگر طیارے کو سالانہ 400 گھنٹے استعمال کیا جائے تو تخمینی آپریٹنگ بجٹ تقریباً 29 لاکھ 34 ہزار 438 ڈالر تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ اوسط یومیہ لاگت تقریباً 8,039 ڈالر یعنی تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار روپے بنتی ہے۔

ماہرین کے فراہم کردہ ان تخمینوں میں مستقل اخراجات بھی شامل ہیں، اس لیے یومیہ رقم کو کسی ایک پرواز کے دوران ہونے والا حقیقی خرچ نہیں سمجھا جا سکتا۔ طیارہ زمین پر موجود ہو تب بھی عملے، ہینگر، انشورنس اور دیگر مستقل اخراجات جاری رہتے ہیں۔

تخمینے کے مطابق سالانہ 200 پرواز گھنٹوں کی صورت میں صرف ایندھن پر تقریباً 7 لاکھ 23 ہزار ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں، جبکہ براہِ راست آپریٹنگ اخراجات تقریباً 12 لاکھ 8 ہزار 237 ڈالر بتائے گئے ہیں۔

اگر مجموعی سالانہ بجٹ کو 200 فلائٹ آورز پر تقسیم کیا جائے تو فی فلائٹ آور لاگت تقریباً 9,068 ڈالر بنتی ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 25 لاکھ 39 ہزار روپے فی گھنٹہ کے برابر ہے۔ اس رقم میں مستقل سالانہ اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، اس لیے اسے صرف ایک گھنٹے کی پرواز کے دوران ہونے والا ایندھن یا براہِ راست خرچ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Leave a reply