ایپسٹین کے مبینہ خودکشی نوٹ پر نیا تنازع، بھائی نے جعلی قرار دے دیا

واشنگٹن: بدنام امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے مقدمات میں زیرِ بحث رہنے والے جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خودکشی نوٹ سامنے آنے کے بعد نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ان کے بھائی مارک ایپسٹین نے اس دستاویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ 2019 میں ایپسٹین کی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل لکھا گیا تھا۔ دستاویز ابتدائی طور پر عدالتی ریکارڈ کا حصہ تھی مگر طویل قانونی کارروائی کے بعد منظرِ عام پر لائی گئی۔
رپورٹس کے مطابق یہ نوٹ ایک سابق قیدی کی جانب سے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جو اسی جیل میں ایپسٹین کے ساتھ قید تھا۔ بعد ازاں اس نوٹ سے متعلق تفصیلات میڈیا کو فراہم کی گئیں۔
نوٹ میں مبینہ طور پر ایسے جملے درج ہیں جن میں تحقیقات کے نتائج اور اپنی موت کے انتخاب سے متعلق خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔
جیفری ایپسٹین کے بھائی مارک ایپسٹین نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحریر ان کے بھائی کے اندازِ بیان سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی نوٹ موجود ہوتا تو اس کا انداز مختلف ہوتا۔
واضح رہے کہ امریکی حکام اب تک یہی مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ جیفری ایپسٹین نے جیل میں خودکشی کی تھی، تاہم ان کی موت کے گرد سوالات اور قیاس آرائیاں اب بھی جاری ہیں۔
ایپسٹین کیس سے متعلق بڑی تعداد میں عدالتی ریکارڈز بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں ان کے نیٹ ورک اور مختلف شخصیات سے روابط کی تفصیلات شامل ہیں۔









