
مانسہرہ میں سرکاری ملازمتیں دلوانے کے نام پر مبینہ فراڈ، متاثرہ خاندان نے وفاقی پولیس سے بھی رجوع کرلیا
مانسہرہ میں ایک خاندان کو سرکاری ملازمتیں دلوانے کے نام پر مبینہ طور پر 85 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کے معاملے میں ملزم نعمان کے خلاف مقدمہ درج ہونے اور اسے اشتہاری قرار دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ملزم کا نام انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے کیس میں بھی زیرِ تفتیش ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ایک خاندان کے چھ بچوں کو سرکاری ملازمتیں دلوانے کا وعدہ کرکے 85 لاکھ روپے وصول کیے اور انہیں تقرری کے خطوط فراہم کیے۔ بعد ازاں دستاویزات کی تصدیق کرانے پر ان کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔
متاثرہ خاندان نے اس معاملے پر نعمان اور اس کے مبینہ ساتھیوں کے خلاف مانسہرہ میں مقدمہ درج کرایا۔ پولیس کے مطابق مقدمے کے بعد ملزم فرار ہوگیا، جس پر اسے اشتہاری قرار دیا گیا۔ متاثرہ خاندان نے شواہد اور متعلقہ دستاویزات کے ساتھ وفاقی پولیس سے بھی رابطہ کیا ہے۔
دوسری جانب لائبہ اعجاز کیس میں بھی ملزم پر دھوکا دہی کے الزامات زیرِ تفتیش ہیں۔ پولیس کے مطابق نعمان نے مبینہ طور پر خود کو ایک بااثر سرکاری شخصیت ظاہر کیا اور لائبہ و ان کے اہلِ خانہ کو امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ اور ویزا دلوانے کی یقین دہانی کرائی۔
لائبہ کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق امریکا بھیجنے کے لیے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے کی رقم طے ہوئی تھی۔ اس میں سے 21 لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے، جبکہ 29 لاکھ روپے لائبہ کے بینک اکاؤنٹ سے منتقل کیے گئے۔
دونوں معاملات میں سامنے آنے والے الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔









