قیمتوں کی منظوری میں تاخیر، کینسر اور ذیابیطس سمیت 40 نئی ادویات مارکیٹ میں نہ آ سکیں

0
29
قیمتوں کی منظوری میں تاخیر، کینسر اور ذیابیطس سمیت 40 نئی ادویات مارکیٹ میں نہ آ سکیں

وفاقی حکومت کی جانب سے قیمتوں کی منظوری نہ ملنے کے باعث کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، پارکنسنز، دل کے امراض اور شدید انفیکشنز کے علاج کے لیے تیار کی گئی 40 نئی رجسٹرڈ ادویات تاحال مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو سکیں۔

ذرائع کے مطابق ان ادویات کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، تاہم قیمتوں کے تعین کا مرحلہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی قانونی فروخت شروع نہیں ہو پائی۔ ادویات کی عدم دستیابی کے باعث بعض مریض غیر رجسٹرڈ، ذاتی طور پر درآمد کی گئی یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق معاملہ پہلے سے موجود ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نہیں بلکہ نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمت مقرر کرنے کا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ 35 نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ مزید ادویات کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ جاری ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے مطابق 40 نئی ادویات کی قیمتوں سے متعلق سفارشات وفاقی حکومت کو ارسال کی جا چکی ہیں، جن کی حتمی منظوری کے بعد ہی ان ادویات کی مارکیٹ میں فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

فارما انڈسٹری اور کیمسٹس تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مریضوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کی منظوری کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔

Leave a reply