قومی اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ بل منظور کر لیا

0
16
قومی اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ بل منظور کر لیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ بل اکثریتی رائے سے منظور کر لیا، جس کے بعد ٹیکس نظام، کسٹمز قوانین، گاڑیوں کی درآمد اور ڈیجیٹل آمدن سے متعلق متعدد نئی پالیسی تبدیلیاں نافذ ہوں گی۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں فنانس بل کی شق وار منظوری دی گئی۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی مختلف ترامیم منظور نہ ہو سکیں، جبکہ حکومت کی بیشتر تجاویز کو ایوان کی حمایت حاصل رہی۔

منظور شدہ بجٹ کے مطابق بیرونِ ملک سے آنے والے موبائل فونز پر واجب الادا ٹیکس اب اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دی جائے گی، جس سے صارفین کو ادائیگی میں آسانی ملے گی۔

حکومت نے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والوں پر یکم جولائی سے 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض فضائی کمپنیوں کو دی جانے والی ٹیکس رعایتیں 2027 سے نافذ العمل ہوں گی۔

نئے مالیاتی اقدامات کے تحت بڑی اور لگژری درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ 2000 سے 3000 سی سی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی 86 فیصد جبکہ 3000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 92 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے 75 ہزار ڈالر تک مالیت رکھنے والی الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکس سے استثنا دیا گیا ہے، جبکہ اس سے مہنگی برقی گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

بجٹ میں پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق ایک مجوزہ شق واپس لے لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کسٹمز حکام کو کسی بھی شخص یا ادارے کے اثاثے ضبط کرنے سے پہلے مؤقف سننے اور وضاحت کا موقع فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ٹیکس نظام میں اصلاحات کے تحت اسٹیل سیکٹر سے بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک جوتوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کو خصوصی سہولتیں دی گئی ہیں۔

سالانہ 20 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے کاروباری افراد کو فائنل ٹیکس نظام سے نکلنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ نان فائلرز کے لیے جرمانوں اور اضافی چارجز میں اضافہ کیا گیا ہے۔

بجٹ قانون کے مطابق اسٹیٹ بینک کو تمام بینکوں کے ڈیٹا پر مشتمل مرکزی کمپیوٹرائزڈ نظام قائم کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ مزید برآں ادویات، کھاد، چینی اور الیکٹرانکس کے بڑے ڈسٹری بیوٹرز پر کم از کم 0.5 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

قانون میں ٹیکس دہندگان کے حقوق سے متعلق ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت آڈیٹر کی تقرری کی صورت میں متعلقہ ٹیکس گزار 15 دن کے اندر اعتراض جمع کرا سکے گا۔

Leave a reply