
راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت یا مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات پہلے سے زیادہ وسیع اور خطرناک ہوں گے۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں “معرکہ حق” کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔
تقریب کے آغاز پر یادگارِ شہدا پر پھول رکھے گئے اور شہدا کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، جبکہ مسلح افواج کے چاک و چوبند دستوں نے سلامی پیش کی۔
اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ “معرکہ حق” میں پاکستان نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور قومی وقار کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے پاکستان کے عزم کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی، لیکن پاکستانی افواج اور قوم نے متحد ہو کر اس کا مؤثر جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ صرف دو ممالک کے درمیان روایتی جنگ نہیں تھا بلکہ دو مختلف نظریات کا مقابلہ تھا، جس میں پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں اور امن کے قیام کے لیے دفاعی تیاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید جنگی حکمت عملی اور مربوط کارروائیوں نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا۔
انہوں نے پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فضائی اور بحری محاذوں پر دشمن کے عزائم ناکام بنائے گئے، جبکہ لائن آف کنٹرول پر بھی بھرپور دفاع کیا گیا۔
خطاب کے دوران انہوں نے بتایا کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے ملٹی ڈومین آپریشن سینٹر قائم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قوم، سیاسی قیادت، میڈیا اور نوجوانوں کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پوری قوم دفاعِ وطن کے لیے متحد رہی۔
انہوں نے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رہیں گی۔









