فنانس بل 2026: نفاذی اقدامات بمقابلہ بنیادی اصلاحات کا سوال پھر سامنے آگیا

0
1
فنانس بل 2026: نفاذی اقدامات بمقابلہ بنیادی اصلاحات کا سوال پھر سامنے آگیا

اسلام آباد: فنانس بل 2026 کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے اقدامات اگرچہ انتظامی طور پر مؤثر ہو سکتے ہیں، تاہم یہ طویل المدتی معاشی اصلاحات کا متبادل نہیں بن سکتے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق فنانس بل میں زیادہ تر توجہ ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، خودکار آڈٹ سسٹم، الگورتھم پر مبنی رسک اسیسمنٹ، اور جدید نگرانی کے طریقہ کار پر مرکوز ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام اور ریونیو میں فوری اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ٹیکس نظام کی ساختی خامیاں ہیں۔ ان کے مطابق معیشت کا بڑا حصہ—خصوصاً ریٹیل، زرعی آمدن، جائیداد کی قیاس آرائی اور غیر رسمی شعبہ—اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، جبکہ بوجھ زیادہ تر دستاویزی اور رسمی شعبوں پر ڈالا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹیکس آمدنی میں اضافہ زیادہ تر معاشی ترقی یا افراطِ زر کے باعث ہوا، لیکن حالیہ برسوں میں یہ اضافہ زیادہ تر ودہولڈنگ ٹیکس، پٹرولیم لیویز اور سخت نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔
فنانس بل 2026 میں بھی اسی رجحان کے تسلسل کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی کو ٹیکس وصولی بڑھانے کے بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف نگرانی اور نفاذ کے ذریعے مستقل معاشی ترقی اور وسیع ٹیکس بنیاد حاصل نہیں کی جا سکتی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ٹیکس نظام کی کامیابی کا انحصار صرف وصولی پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ معیشت میں سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار کے مواقع کتنے بڑھتے ہیں۔ اگر معیشت کی مجموعی رفتار سست رہے تو محض سخت ٹیکس اقدامات اپنی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ فنانس بل میں زرعی آمدن، ریٹیل سیکٹر اور وفاق و صوبوں کے ٹیکس نظام میں ہم آہنگی جیسے اہم مسائل کو مکمل طور پر حل نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو پائیدار مالی استحکام کے لیے محض نفاذی اصلاحات کے بجائے وسیع تر ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے، جن میں ٹیکس نیٹ کی توسیع، قوانین کی سادگی اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کی بحالی شامل ہے۔
تجزیہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اگر موجودہ پالیسی جاری رہی تو یا تو حکومت سخت نفاذ کے ذریعے قلیل مدتی اہداف حاصل کرے گی، یا پھر معاشی سست روی کی صورت میں بار بار نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے پڑیں گے۔
ماہرین کے مطابق اصل حل ایک ایسے معاشی نظام کی تشکیل ہے جو زیادہ پیداوار، سرمایہ کاری اور وسیع ٹیکس بنیاد کو فروغ دے، نہ کہ صرف موجودہ محدود شعبوں پر بوجھ بڑھاتا رہے۔

Leave a reply