غزہ میں مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر تعطل کا شکار، اسرائیل کی جانب سے رسائی نہ مل سکی

0
27
غزہ میں مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر تعطل کا شکار، اسرائیل کی جانب سے رسائی نہ مل سکی

غزہ میں 150 بین الاقوامی اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر شروع نہ ہو سکی، منصوبے کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے۔

غزہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ قیادت امن بورڈ کے منصوبے کو اس وقت مشکلات کا سامنا ہے جب غزہ میں مجوزہ فوجی اڈے کی تعمیر تاحال شروع نہیں ہو سکی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تعمیراتی سامان، ٹرکوں اور ٹھیکیداروں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث منصوبہ آگے نہیں بڑھ پا رہا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اس اڈے کی تعمیر کا مقصد غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے بنیادی سہولت فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت ایسے فوجی اڈے کی تعمیر کی جانی ہے جہاں تقریباً 150 بین الاقوامی اہلکار تعینات کیے جا سکیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا ٹھیکہ امریکی ریاست لوزیانا میں قائم کمپنی آرکل انٹرنیشنل کو دیا گیا تھا، تاہم معاہدہ طے پانے کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکیں۔ منصوبے پر پیش رفت کے لیے ضروری مشینری اور افرادی قوت کی غزہ تک رسائی ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

دی گارڈین کے مطابق معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ تعمیراتی منصوبہ اسرائیلی مؤقف کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ رپورٹ میں تاہم اس حوالے سے اسرائیل کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے رسائی کیوں فراہم نہیں کی جا رہی۔

رپورٹ کے مطابق امن بورڈ کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مجوزہ فوجی اڈے کو غزہ میں بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فورس کا مقصد جنگ کے بعد علاقے میں سکیورٹی اور استحکام کے انتظامات میں کردار ادا کرنا ہے۔

تاہم تعمیراتی کام میں تاخیر کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ فی الحال تعمیر شروع ہونے کی نئی تاریخ سامنے نہیں آئی اور منصوبے کی پیش رفت کا انحصار تعمیراتی سامان، مشینری اور متعلقہ عملے کو غزہ میں داخلے کی اجازت ملنے پر ہے۔

Leave a reply