عالمی تنقید کے بیچ نیتن یاہو کے بیٹے کا بڑا فیصلہ، شناخت تبدیل کرلی

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بڑے بیٹے یائر نیتن یاہو کی جانب سے اپنا قانونی نام تبدیل کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یائر نیتن یاہو نے تقریباً ڈھائی سال قبل سرکاری طور پر اپنا نام تبدیل کرکے یوناتان ہون رکھ لیا تھا۔ یہ معاملہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے بعد منظر عام پر آیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نام کی تبدیلی کی ممکنہ وجوہات میں نیتن یاہو خاندان سے جڑی سیاسی مخالفت اور عوامی ردعمل شامل ہو سکتے ہیں، تاہم یائر نیتن یاہو یا ان کے خاندان کی جانب سے اس بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں دی گئی۔
اسرائیلی قوانین کیمطابق ایک بار قانونی نام تبدیل کرنیکے بعد اسے دوبارہ تبدیل کرنے کے لیے کم از کم سات سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یائر کے بھائی اوینر نیتن یاہو نے بھی ماضی میں اپنے نام میں تبدیلی کی تھی، تاہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یائر نیتن یاہو دائیں بازو کے سیاسی خیالات رکھنے والے کارکن اور پوڈکاسٹر کے طور پر معروف ہیں۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکا کی ریاست فلوریڈا میں مقیم ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے سیاسی بیانات کے باعث خبروں میں رہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان کا نیا نام یوناتان، ان کے خاندان کے ایک رشتہ دار سے منسوب ہے جبکہ ہون ان کے آبائی خاندانی نام سے تعلق رکھتا ہے۔
غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی کارروائیوں پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
تاحال نیتن یاہو خاندان یا وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے نام کی تبدیلی کے معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔









