شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کا الزام، اقوامِ متحدہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں مختلف شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں پل، شاہراہیں، سرنگیں، بجلی کی تنصیبات اور پانی کی فراہمی سے متعلق مراکز شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی صوبہ ہرمزگان میں واقع جاسک کے ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کا پمپنگ اسٹیشن اور بجلی کا ٹرانسفارمر حملے میں متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں قریبی متعدد دیہاتوں میں پانی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ مقامی حکام کے مطابق اس صورتحال سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہرمزگان میں کئی پلوں اور اہم شاہراہوں کو بھی نقصان پہنچا، جس سے بعض علاقوں کے درمیان زمینی رابطہ متاثر ہوا اور کئی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ چابہار میں واقع میری ٹائم کنٹرول ٹاور بھی ایک بار پھر حملے کی زد میں آیا، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایران نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ کویتی حکام کے مطابق حملوں کے بعد احتیاطی اقدامات کے تحت فضائی حدود عارضی طور پر بند کی گئیں، جبکہ بعض شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بحرین میں بھی فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے، جبکہ اردن نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے کئی بیلسٹک میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقامات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سنگین معاملہ ہے اور تمام فریقین کو شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو خطے میں تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔









