
دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی ایئر کنڈیشنر (اے سی) کا استعمال تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ شہری علاقوں میں شدید گرمی اور حبس سے بچنے کے لیے لوگ زیادہ تر اے سی پر انحصار کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے مثبت اثرات کے ساتھ کچھ منفی پہلو بھی موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق اے سی کمرے کی گرم اور مرطوب ہوا کو جذب کر کے اسے ٹھنڈی ہوا میں تبدیل کرتا ہے، جس کے دوران ہوا میں موجود نمی کم ہو جاتی ہے۔ اس عمل سے ماحول تو خوشگوار ہو جاتا ہے لیکن طویل وقت تک اے سی میں رہنے سے جسم پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جلد اور آنکھوں کی خشکی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
تحقیق اور رپورٹس کے مطابق اے سی کی ایجاد کا سہرا امریکی انجینئر ولیس کیریئر کو جاتا ہے جنہوں نے 1902 میں اندرونی ماحول میں نمی اور درجہ حرارت کنٹرول کرنے کا نظام تیار کیا تھا۔ بعد ازاں یہ ٹیکنالوجی گھروں اور دفاتر تک عام ہو گئی۔
صحت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شدید گرمی میں مناسب ٹھنڈک نہ ملنے کی صورت میں ہیٹ اسٹریس اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گرمی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اموات کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتی ہیں اور یہ دل، دمہ اور دیگر بیماریوں کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔
دوسری جانب اے سی کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل میں خشک جلد، گلا اور ناک خشک ہونا، سر درد اور پٹھوں کی اکڑن شامل ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے، موئسچرائزر استعمال کیا جائے اور براہِ راست ٹھنڈی ہوا سے بچا جائے۔
مزید یہ کہ اگر اے سی کے فلٹرز صاف نہ رکھے جائیں تو گرد و غبار اور جراثیم ہوا کے ذریعے صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے باقاعدہ صفائی اور سروس کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمی سے بچاؤ کے لیے اے سی کا متوازن استعمال، مناسب درجہ حرارت کی ترتیب، اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا صحت کے لیے انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔









