
مشرقِ وسطیٰ کے سمندری علاقے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے جدید فوجی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد اس کے دو اہلکار سمندر میں پھنس گئے، جنہیں بچانے کے لیے پہلی مرتبہ ایک خودکار سمندری ڈرون کا استعمال کیا گیا۔
امریکی بحریہ کے مطابق ریسکیو آپریشن میں استعمال ہونے والا بغیر عملے کا سمندری جہاز “سارونک کورسیئر” تھا، جو تقریباً 24 فٹ لمبا ہے اور دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ جدید ڈرون خاص طور پر ایسے علاقوں میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں انسانی جانوں کو براہِ راست خطرات لاحق ہوں۔
بحری حکام کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب امریکی فوج نے سمندر میں پھنسے ہوئے اپنے اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کسی خودکار بحری ڈرون پر انحصار کیا۔ اس پیش رفت کو مستقبل کی بحری جنگی اور امدادی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا گزشتہ چند برسوں سے بغیر عملے کے چلنے والے بحری اور فضائی نظاموں کو اپنی دفاعی منصوبہ بندی کا اہم حصہ بنا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت 2021 میں ٹاسک فورس 59 قائم کی گئی، جس کا ہیڈکوارٹر بحرین میں موجود ہے۔ یہ یونٹ جدید خودکار بحری نظاموں کی آزمائش اور ترقی پر کام کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید سمندری ڈرونز نہ صرف سطحِ آب پر بلکہ پانی کے اندر بھی مختلف نوعیت کے مشن انجام دے سکتے ہیں۔ ان کا استعمال نگرانی، بارودی سرنگوں کی نشاندہی، دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور حساس علاقوں سے معلومات جمع کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کی نسبتاً کم لاگت اور فوری ردعمل کی صلاحیت ہے۔ روایتی جنگی جہازوں کے مقابلے میں یہ نظام کم وسائل استعمال کرتے ہیں اور خطرناک حالات میں انسانی جانوں کے نقصان کے امکانات بھی کم کر دیتے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین نے بھی روس کے خلاف جنگ میں سمندری ڈرونز کے مؤثر استعمال سے دنیا کی توجہ حاصل کی تھی، جہاں ان ڈرونز نے جنگی جہازوں اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنا کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
تازہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سمندری ڈرونز اب صرف جنگی کارروائیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی جانیں بچانے اور ہنگامی امدادی مشنز میں بھی اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔









