سعودی عرب کا بڑا دفاعی قدم! اب زیادہ طاقتور میزائل بنانے کی تیاری

ریاض: سعودی عرب اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں زیادہ طاقتور اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کیے جا سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محققین نے تجارتی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد سعودی عرب کے علاقے الدوادیمی میں میزائل کمپلیکس کی توسیع کی نشاندہی کی ہے۔ محققین کے مطابق وہاں نئی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، جن میں سے ایک کو ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے انجن بنانے کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹھوس ایندھن کے حامل میزائل نسبتاً کم وقت میں داغے جا سکتے ہیں، جس سے کسی ملک کی فوجی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سعودی تنصیبات میں چینی ٹیکنالوجی استعمال ہونے کا بھی امکان ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق میزائل سازی میں پیش رفت سعودی عرب کو ایران کے مقابلے میں اپنی دفاعی اور حملہ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ دوسری جانب خطے میں جدید ہتھیاروں کی تیاری سے علاقائی کشیدگی اور میزائلوں کی دوڑ بڑھنے کے خدشات بھی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس پروگرام کے ممکنہ اثرات امریکا اور سعودی عرب کے درمیان زیرِ غور سول جوہری تعاون کے معاہدے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔









