ایران کا خلیج میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہ

ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، کسی نئے حملے کی صورت میں اہم ڈیجیٹل تنصیبات بھی جوابی کارروائی کا ہدف بن سکتی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچانے اور ان کی مرمت میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے مواصلاتی خدمات کی بحالی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب موجود سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز خطرے کی زد میں آسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز سے عالمی انٹرنیٹ بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ گزرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔
اس کے باوجود متعدد کیبلز کو نقصان پہنچنے سے علاقائی انٹرنیٹ سروسز، مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہوسکتی ہیں۔ جنگی حالات میں مرمت، انشورنس اور بحالی کے عمل میں مشکلات بھی بڑھ سکتی ہیں۔









