سائبر حملے اب انسانی زندگی کے لیے بھی خطرہ بن گئے ہیں، ماہرین کا انتباہ

0
102
سائبر حملے اب انسانی زندگی کے لیے بھی خطرہ بن گئے ہیں، ماہرین کا انتباہ

سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب سائبر حملے صرف ذاتی معلومات یا مالی نقصانات تک محدود نہیں رہ گئے بلکہ یہ براہِ راست انسانی زندگیوں کے لیے بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ڈیلائٹ جنوبی ایشیا کے سائبر سیکیورٹی ماہر گورو شکلا کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور آپریشنل سسٹمز کے درمیان بڑھتا ہوا انحصار صحت، ٹرانسپورٹ، بجلی اور ہوا بازی جیسے حساس شعبوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
شکلا نے واضح کیا کہ اگر کسی انٹرنیٹ سے جڑی یا خودکار گاڑی کو ہیک کر لیا جائے تو اس کے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص شاہراہ پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کنیکٹڈ کار چلا رہا ہو اور اچانک اسٹیرنگ اس کے کنٹرول سے باہر ہو جائے، تو اس وقت سب سے بڑی فکر مالی نقصان کی نہیں بلکہ جان کے تحفظ کی ہوگی۔
اسی طرح طبی آلات یا مریضوں کے ڈیٹا میں غیر مجاز تبدیلی انسانی جان کے لیے شدید خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ بجلی کے نظام کو ہیک کرنے کی صورت میں پورے ملک میں بجلی بند ہو سکتی ہے، جس سے ہنگامی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔
شکلا نے کہا کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ سے جڑے لاکھوں آلات اور سینسرز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مزید برآں، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سائبر حملوں کی رفتار اور شدت میں بھی کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سفارش کی کہ اب وقت آگیا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل اخلاقیات کو پرائمری اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، تاکہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ڈیجیٹل پرائیویسی اور حفاظت کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔
گورو شکلا نے کہا، “جیسا کہ زبان سیکھنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے، اسی طرح ڈیجیٹل حفاظت اور پرائیویسی کی تعلیم بھی آج کے دور کی بنیادی ضرورت ہے۔”
ان کے مطابق، روایتی جنگیں وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، لیکن سائبر جنگ ایک مستقل اور جاری رہنے والا چیلنج ہے جس کے لیے حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ اور مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔

Leave a reply