روس کے جدید بیلسٹک ہتھیار نے دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا

0
11
روس کے جدید بیلسٹک ہتھیار نے دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا

روس کے یوکرین پر حالیہ حملوں کے دوران استعمال ہونے والا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل “اوریشنک” عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا جدید ہتھیار ہے جو اپنی غیر معمولی رفتار اور تکنیکی خصوصیات کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اطلاعات کیمطابق اس میزائل کی سب سےنمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک سے زیادہ وارہیڈز لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو فضا میں الگ ہو کر مختلف اہداف کو بیک وقت نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی عموماً طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی میزائلوں میں دیکھی جاتی ہے، تاہم روس نے اسے درمیانے فاصلے کے نظام میں شامل کیا ہے، جسے بعض ماہرین RS-26 روبیز کے ڈیزائن سے منسلک کرتے ہیں۔
یہ ہتھیار روایتی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ساتھ ایٹمی صلاحیت بھی رکھتا ہے، تاہم حالیہ استعمال میں کسی جوہری مواد کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں اس میزائل کی رفتار انتہائی زیادہ ریکارڈ کی گئی، جو آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز ہے۔
روسی قیادت اس ہتھیار کو انتہائی طاقتور اور روکنا تقریباً ناممکن قرار دیتی ہے، جبکہ مغربی دفاعی تجزیہ کار ان دعوؤں کو مبالغہ آمیز سمجھتے ہیں۔ بعض امریکی حکام کے مطابق یہ نظام ابھی مکمل طور پر آزمائشی مرحلے میں ہے اور اس کی تعداد بھی محدود ہے، اس لیے اسے فیصلہ کن جنگی تبدیلی کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا۔
رپورٹس کے مطابق روس نے 2024 کے بعد اس میزائل کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے اور اسے اپنے قریبی اتحادیوں تک بھی منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم حالیہ حملوں میں ہونے والی تباہی نسبتاً محدود رہی ہے، جس کی وجہ بعض یوکرینی حکام نے یہ بتائی ہے کہ بعض کارروائیوں میں مکمل دھماکہ خیز مواد کے بجائے نقلی وار ہیڈز استعمال کیے گئے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس ہتھیار کے استعمال کا مقصد صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ مغربی ممالک کو ایک واضح پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے کہ روس کے پاس انتہائی تیز اور جدید میزائل موجود ہیں جو خطے میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یورپی ممالک کے حوالے سے بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان مباحث کے بعد جن میں جنگ بندی کی صورت میں یوکرین میں یورپی افواج کی ممکنہ تعیناتی کا ذکر کیا گیا۔ روس نے واضح کیا ہے کہ ایسی کسی پیش رفت کو وہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرے گا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس ان جدید میزائلوں کو محدود تعداد میں استعمال کر رہا ہے تاکہ اپنی عسکری صلاحیت کا تاثر برقرار رکھتے ہوئے اسٹریٹجک دباؤ قائم رکھا جا سکے۔

Leave a reply