دنیا کے مہنگے ترین دفاعی نظام پر خطرہ؟ پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے

0
7
دنیا کے مہنگے ترین دفاعی نظام پر خطرہ؟ پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے

دنیا کے جدید فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہونے والے امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم کی طلب میں حالیہ جنگوں کے باعث نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے اہم انٹرسیپٹر میزائلوں کے عالمی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
پیٹریاٹ نظام کو پہلی مرتبہ 1991 کی خلیجی جنگ میں نمایاں طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ اس میں متعدد اپ گریڈ کیے گئے اور آج یہ طیاروں، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع کے لیے کئی ممالک کے اہم ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شامل ہے۔
یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی طلب
روس اور یوکرین کی جنگ کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے میزائل حملوں نے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی کھپت میں اضافہ کیا ہے۔ یوکرین روسی بیلسٹک میزائل حملوں کے خلاف دفاع کے لیے مزید انٹرسیپٹرز کا خواہاں ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی اپنے دفاعی ذخائر دوبارہ بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض یورپی ممالک اپنے محدود ذخائر میں کمی کے خدشے کے باعث یوکرین کو مزید میزائل فراہم کرنے میں محتاط دکھائی دیتے ہیں۔
پیٹریاٹ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
پیٹریاٹ ایک موبائل زمین سے فضا میں مار کرنے والا دفاعی نظام ہے، جس میں ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ، پاور سسٹم، لانچرز اور معاون گاڑیاں شامل ہوتی ہیں۔
اس نظام میں مختلف اقسام کے انٹرسیپٹر استعمال کیے جاتے ہیں۔ پرانے PAC-2 میزائل ہدف کے قریب جا کر وارہیڈ کے دھماکے کے ذریعے اسے تباہ کرتے ہیں، جبکہ جدید PAC-3 خاندان کے میزائل ’ہٹ ٹو کِل‘ طریقہ اختیار کرتے ہیں، یعنی میزائل براہِ راست ہدف سے ٹکرا کر اسے تباہ کرتا ہے۔
PAC-3 MSE کو خاص طور پر جدید بیلسٹک میزائلوں کے خلاف زیادہ مؤثر دفاع فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
مہنگا دفاعی نظام
پیٹریاٹ کی دفاعی صلاحیت کے ساتھ اس کی لاگت بھی انتہائی زیادہ ہے۔ مختلف تخمینوں کے مطابق مکمل پیٹریاٹ بیٹری کی قیمت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ جدید PAC-3 انٹرسیپٹر کی قیمت کئی ملین ڈالر فی میزائل تک پہنچتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کے دوران دفاع کرنے والے ممالک کو صرف چند دنوں یا ہفتوں میں اربوں ڈالر مالیت کے انٹرسیپٹرز استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ذخائر میں نمایاں کمی
پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے عالمی ذخائر کی اصل تعداد خفیہ رکھی جاتی ہے، تاہم دفاعی تجزیوں کے مطابق حالیہ جنگوں میں بڑے پیمانے پر استعمال نے امریکی، خلیجی اور بعض یورپی ممالک کے ذخائر کو خاصا متاثر کیا ہے۔
سعودی عرب سمیت بعض خلیجی ممالک نے بھی میزائل حملوں کے خلاف دفاع کرتے ہوئے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر استعمال کیے ہیں، جبکہ یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے گئے میزائلوں نے ان کے اپنے ذخائر پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
نئے میزائلوں کے آرڈرز
ذخائر میں کمی کے بعد کئی ممالک نے نئے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے حصول اور موجودہ اسٹاک کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
امریکا نے بعض خلیجی ممالک کو ہزاروں نئے انٹرسیپٹرز کی فروخت کی منظوری بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے امریکی دفاعی صنعت کو بڑے معاہدے دیے جا رہے ہیں۔
لاک ہیڈ مارٹن نے پیٹریاٹ پروگرام کے لیے ایک نئے انٹرسیپٹر تصور کو بھی متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد کم لاگت میں مؤثر دفاعی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔
عالمی دفاع میں پیٹریاٹ کی اہمیت
پیٹریاٹ اس وقت دنیا کے متعدد ممالک کے فضائی دفاعی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔ امریکا کے علاوہ جرمنی، پولینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک بھی اس نظام کے مختلف ورژنز استعمال کر رہے ہیں۔
یوکرین میں روسی میزائل حملوں کے خلاف اس نظام کی کارکردگی نے اس کی عالمی اہمیت مزید بڑھا دی ہے، تاہم موجودہ صورتحال نے ایک اہم مسئلہ بھی اجاگر کیا ہے: جدید فضائی دفاعی نظام کی تعداد ہی نہیں بلکہ ان کے لیے درکار انٹرسیپٹر میزائلوں کا مسلسل اور بڑے پیمانے پر دستیاب ہونا بھی جنگی صلاحیت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
موجودہ جنگوں کے باعث پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی طلب اور پیداوار کے درمیان بڑھتا ہوا فرق آنے والے برسوں میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا دفاعی صنعتی چیلنج بن سکتا ہے۔

Leave a reply