دنیا کے مختلف حصوں میں آنے والے حالیہ زلزلے، کیا ان کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟

دنیا کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران آنے والے طاقتور زلزلوں نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ متعدد ممالک میں یکے بعد دیگرے زلزلوں کے بعد یہ سوال سامنے آیا کہ آیا یہ واقعات ایک دوسرے سے منسلک ہیں یا محض اتفاق ہیں۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں آنے والے یہ زلزلے ایک دوسرے سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر زلزلہ اپنے علاقے کی زمینی ساخت، ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور مقامی فالٹ لائنز کی وجہ سے آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جاپان اور کیلیفورنیا جیسے علاقوں میں درمیانی اور نسبتاً بڑے زلزلے وقفے وقفے سے آنا معمول کی بات ہے، جبکہ بعض دیگر علاقوں میں ایسے شدید زلزلے کئی دہائیوں بعد آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تمام زلزلے کسی ایک ہی وجہ سے جڑے ہوتے تو درمیان میں واقع دیگر فالٹ لائنز پر بھی اسی نوعیت کی سرگرمی دیکھی جاتی، جو اس وقت نظر نہیں آئی۔
سائنس دانوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا ہے کہ دنیا میں زلزلوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق جدید دور میں زلزلہ پیما آلات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ حساس اور جدید ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے اب معمولی شدت کے جھٹکے بھی ریکارڈ ہو جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 20 ہزار چھوٹے اور بڑے زلزلے ریکارڈ کیے جاتے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ لگ بھگ 55 زلزلے آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اتنے کم شدت کے ہوتے ہیں کہ عام لوگوں کو ان کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
طویل مدتی ریکارڈ کے مطابق ہر سال اوسطاً تقریباً 16 ایسے زلزلے آتے ہیں جن کی شدت 7 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، تاہم کسی سال یہ تعداد زیادہ اور کسی سال کم بھی ہو سکتی ہے۔
تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں 1960 میں چلی میں آنے والا 9.5 شدت کا زلزلہ شامل ہے، جبکہ 2004 میں انڈونیشیا کے قریب آنے والے 9.1 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے زمین کے قدرتی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے عوام کو غیر مصدقہ افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند سائنسی معلومات پر اعتماد کرنا چاہیے ۔









