جماعت الاحرار کیا ہے اور یہ دوبارہ خبروں میں کیوں آئی؟

0
30
جماعت الاحرار کیا ہے اور یہ دوبارہ خبروں میں کیوں آئی؟

کراچی میں رینجرز کے ایک کیمپ پر حملے کے بعد کالعدم شدت پسند گروہ جماعت الاحرار ایک مرتبہ پھر خبروں میں آ گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق حملے میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق اسی گروہ سے بتایا گیا ہے۔
جماعت الاحرار کا قیام 2014 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اندر اختلافات کے بعد عمل میں آیا۔ اس گروہ کی بنیاد عمر خالد خراسانی نے رکھی، جو پہلے ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں میں شمار ہوتا تھا۔ تنظیم کی تشکیل اس وقت ہوئی جب ٹی ٹی پی کی قیادت اور اختیارات کے معاملے پر اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔
تنظیم کا بنیادی مقصد پاکستان کے موجودہ آئینی اور جمہوری نظام کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے نظریات کے مطابق نظام نافذ کرنا بتایا جاتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اس گروہ نے ماضی میں ملک کے مختلف حصوں میں متعدد مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں شہری، سیکیورٹی اہلکار اور مذہبی مقامات بھی نشانہ بنے۔
جماعت الاحرار کو پاکستان نے 2016 میں کالعدم قرار دیا، جبکہ بعد ازاں امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر کے اس کے خلاف پابندیاں عائد کیں۔
تنظیم کے بانی عمر خالد خراسانی 2022 میں افغانستان میں ایک دھماکے میں مارا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف کمانڈروں نے قیادت سنبھالی، جبکہ 2020 میں جماعت الاحرار دوبارہ تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہو گئی۔ اگرچہ اب یہ الگ تنظیم کے طور پر سرگرم نہیں، تاہم سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس کے سابق ارکان اور نیٹ ورک اب بھی ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں میں موجود ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں ٹی ٹی پی سے وابستہ مختلف گروہ سرگرم رہے ہیں، جن میں جماعت الاحرار کے سابق جنگجو بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں مذہبی نعروں کا استعمال کرتی ہیں، لیکن ان کی کارروائیوں کا نشانہ اکثر بے گناہ شہری بنتے ہیں، جن کی اسلام سمیت تمام مذاہب اور بین الاقوامی قوانین میں واضح مذمت کی گئی ہے۔

Leave a reply