خون میں شوگر کی کمی (ہائپوگلیسیمیا): ایک خطرناک مگر قابلِ روک حالت

0
9
خون میں شوگر کی کمی (ہائپوگلیسیمیا): ایک خطرناک مگر قابلِ روک حالت

طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خون میں شوگر کی کمی کو اکثر لوگ عام تھکن یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ حالت بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی دماغ اپنی توانائی کے لیے بنیادی طور پر گلوکوز پر انحصار کرتا ہے۔ جب خون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جائے تو دماغی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے، جس سے الجھن، کپکپی، بے ہوشی اور بعض اوقات دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔ طویل عرصے تک شدید کمی برقرار رہنے کی صورت میں دماغی نقصان کا خدشہ بھی موجود ہوتا ہے۔
ابتدائی علامات میں چکر آنا، نظر دھندلانا، غیر معمولی رویہ، کمزوری اور شدید بھوک شامل ہو سکتی ہیں۔ اگر فوری توجہ نہ دی جائے تو مریض کی حالت بگڑ کر بے ہوشی تک جا سکتی ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق یہ مسئلہ زیادہ تر ذیابیطس کے مریضوں میں دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب انسولین یا دیگر ادویات کی مقدار اور خوراک میں توازن نہ رہے۔ اس کے علاوہ گردے اور جگر کے مریض، نومولود بچے اور وہ افراد جو خالی پیٹ سخت جسمانی مشقت کریں، زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ بعض اوقات علامات ہلکی ہونے کی وجہ سے مریض یا اہل خانہ بروقت پہچان نہیں پاتے، جس سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شیر خوار بچوں میں یہ مسئلہ مزید مشکل ہوتا ہے، جہاں علامات غیر واضح ہو سکتی ہیں۔
اس کیفیت کی عام وجوہات میں انسولین کا غلط استعمال، کھانا چھوڑ دینا، تاخیر سے کھانا کھانا، یا ضرورت سے زیادہ جسمانی سرگرمی شامل ہیں۔ بعض ادویات بھی جسم میں شوگر کی سطح کم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر گردوں کے مریضوں میں۔
عالمی طبی رہنما اصولوں کے مطابق کم شوگر کی صورت میں فوری طور پر سادہ کاربوہائیڈریٹس لینا ضروری ہوتا ہے، جیسے میٹھا جوس، گلوکوز یا شہد۔ کچھ دیر بعد دوبارہ شوگر چیک کی جاتی ہے اور اگر ضرورت ہو تو یہی عمل دہرایا جاتا ہے۔
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خطرے سے دوچار افراد ہمیشہ اپنے ساتھ فوری توانائی فراہم کرنے والی اشیاء جیسے گلوکوز ٹیبلٹس رکھیں اور بلڈ شوگر مانیٹرنگ کو معمول بنائیں۔
اگر مریض بے ہوش ہو جائے تو اسے زبردستی کچھ کھلانے کے بجائے فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا چاہیے تاکہ اسے محفوظ طریقے سے گلوکوز دیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب احتیاط، بروقت تشخیص اور باقاعدہ نگرانی کے ذریعے اس خطرناک حالت سے مؤثر طریقے سے بچاؤ ممکن ہے۔

Leave a reply