ٹرمپ ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے پر غور، یورینیم افزودگی پر ممکنہ نرمی کی تجویز

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے اور خطے کی کشیدگی کے حوالے سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کو تقریباً دس سال بعد دوبارہ محدود سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل وہ طویل المدتی پابندی کے حامی تھے تاکہ کسی بھی جوہری سرگرمی کی بحالی کو روکا جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں ایران کو 15 سال تک اعلیٰ سطح کی افزودگی سے روکا گیا تھا، تاہم بعد میں امریکا اس معاہدے سے الگ ہو گیا تھا۔ اب نئی حکمتِ عملی میں کسی حد تک نرمی کے امکانات زیر غور ہیں۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک حالیہ فوجی واقعے کے بعد امریکی صدر نے اپنے مشیروں اور عسکری قیادت پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اطلاعات کے مطابق ایک فضائی جھڑپ میں امریکی طیارہ تباہ ہوا، جس کے بعد ریسکیو آپریشن کیا گیا اور پائلٹس کو مختلف مراحل میں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل صورتحال مزید غیر یقینی ہے۔ ایرانی میڈیا نے امریکی دعوؤں کے برعکس براہِ راست مذاکرات سے انکار کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔
اسی دوران آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو روکنے کے واقعے کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔
عالمی منڈی میں اس صورتحال کے اثرات بھی نظر آئے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔








