خلیجی ممالک پر پانی کا بڑا خطرہ، واٹر پلانٹس ایران کے نشانے پر!

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس کی سلامتی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسے اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معیشت، خوراک کی دستیابی اور عوامی زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
خلیجی ممالک میں بارشیں کم ہونے اور قدرتی میٹھے پانی کے محدود ذخائر کے باعث سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹس بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ زیرزمین پانی اور ڈی سیلینیشن پلانٹس سے حاصل ہونے والا پانی خطے کی مجموعی آبی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیرزمین پانی میں کمی نے ان پلانٹس کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، عمان، قطر اور بحرین سمیت خلیجی ساحلی علاقوں میں سینکڑوں واٹر پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ ان میں جدید ریورس اوسموسس اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ذریعے سمندری پانی سے نمکیات اور آلودگی الگ کر کے اسے پینے، زراعت اور صنعتی استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دنیا کے بڑے ڈی سیلینیشن ممالک میں شامل ہے، جبکہ کویت، عمان اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی پانی کی ضروریات کے لیے ان پلانٹس پر نمایاں حد تک انحصار کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ایران کے پاس دریا اور ڈیم موجود ہونے کی وجہ سے اس کا انحصار نسبتاً کم ہے، اگرچہ ساحلی علاقوں میں وہاں بھی ایسے پلانٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماحولیاتی اور خلیجی امور کے ماہرین کے مطابق اگر کسی ملک کے پانی صاف کرنے والے پلانٹس متاثر ہوتے ہیں تو شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت، صنعتی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور زرعی شعبے پر دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے خلیجی ممالک، جہاں پانی کے اسٹریٹجک ذخائر محدود ہیں، ایسے حالات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پانی کی قلت کا خدشہ عوام میں بے چینی اور خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ان تنصیبات کا تحفظ قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورت بھی ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ خلیجی ممالک کو پانی کے تحفظ کو مشترکہ علاقائی مسئلہ سمجھتے ہوئے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق مشترکہ واٹر نیٹ ورک، اسٹریٹجک ذخائر میں تعاون، اور شمسی و ہوائی توانائی سے چلنے والے چھوٹے ڈی سیلینیشن پلانٹس کی تنصیب مستقبل میں پانی کی فراہمی کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنا سکتی ہے۔









