
سائنسدانوں نے خلا میں ایک اہم دریافت کی ہے جس سے زندگی کے آغاز سے متعلق تحقیق کو نئی سمت مل سکتی ہے۔ ماہرین نے ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکز کے قریب موجود گیس اور گرد کے ایک بڑے بادل میں پیچیدہ قسم کی قدرتی شکر دریافت کی ہے، جسے ایریتھرولوز (Erythrulose) کہا جاتا ہے۔
یہ دریافت اسپین میں موجود جدید ریڈیو دوربینوں کی مدد سے کی گئی، جہاں سائنسدانوں نے خلائی بادل سے آنے والے سگنلز کا زمین پر تیار کردہ نمونوں سے موازنہ کرکے اس شکر کی موجودگی کی تصدیق کی۔
ماہرین کے مطابق ایریتھرولوز وہی قدرتی شکر ہے جو بعض پھلوں، خاص طور پر رسبری، اور کچھ کاسمیٹک مصنوعات میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ مادہ براہِ راست زندگی کے لیے کافی نہیں، لیکن اس کی کیمیائی ساخت ایسی تبدیلیوں کا امکان رکھتی ہے جن کے نتیجے میں زندگی کے لیے اہم مالیکیولز تشکیل پا سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ کائنات کے مختلف حصوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ یہی اجزا ممکنہ طور پر ہمارے نظام شمسی کی تشکیل سے پہلے خلا میں موجود تھے اور بعد میں سیاروں کی تشکیل کے عمل کا حصہ بنے۔
ماہرین طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زمین پر زندگی کے لیے ضروری مواد کہاں سے آیا۔ کچھ نظریات کے مطابق یہ اجزا دمدار ستاروں یا خلائی چٹانوں کے ذریعے زمین تک پہنچے، جبکہ دیگر تحقیقات سے یہ امکان سامنے آتا ہے کہ یہ بنیادی کیمیائی مادے پہلے ہی خلا میں موجود تھے۔
اس سے قبل بھی ملکی وے کے مرکز کے قریب شکر سے ملتے جلتے مالیکیول دریافت کیے جا چکے ہیں، جبکہ سیارچے بینو سے حاصل کیے گئے نمونوں میں بھی مختلف اقسام کے نامیاتی مرکبات اور شکر کے اجزا ملے ہیں۔
تحقیق سے وابستہ سائنسدانوں کے مطابق اگر ایسے پیچیدہ کیمیائی مادے کہکشاں کے ایک حصے میں موجود ہیں تو ممکن ہے کہ یہ کائنات کے دیگر علاقوں میں بھی پائے جاتے ہوں۔ اس سے یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا زندگی کے لیے ضروری حالات صرف زمین پر ہی موجود تھے یا کائنات میں کہیں اور بھی زندگی کے امکانات ہو سکتے ہیں۔
ماہرین اب خلا میں موجود مزید نامیاتی مرکبات کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ مادے کس طرح تشکیل پاتے ہیں اور زندگی کے آغاز کے عمل میں ان کا کیا کردار رہا ہوگا۔









