خلا میں خاموش جنگ کی تیاری؟ امریکا کے اعتراف نے نئی بحث چھیڑ دی

امریکی فضائیہ کے نائب سیکرٹری ٹرائے مینک کے بیان کے بعد خلا میں امریکی عسکری سرگرمیوں سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی عہدیدار نے ایک دفاعی کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ امریکا نے اپنے اور اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے خلا میں بعض ہتھیاری صلاحیتیں تعینات کر رکھی ہیں۔
ان کے مطابق امریکا بدلتے ہوئے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف محاذوں پر اپنی دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم امریکی حکام نے ان نظاموں کی نوعیت، تعداد یا مقام کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
خلائی سیکیورٹی سے وابستہ ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے ’’ہتھیار‘‘ کی اصطلاح کا کھلے عام استعمال خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ان صلاحیتوں میں ایسے نظام شامل ہو سکتے ہیں جو دشمن کے سیٹلائٹس یا مواصلاتی نظام کو متاثر کرنے کے لیے الیکٹرانک وارفیئر اور سگنل جیمنگ جیسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔
خلائی سیکیورٹی ماہر وکٹوریہ سیمسن نے امریکی خلائی حکمتِ عملی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلا میں عسکری صلاحیتوں میں اضافہ عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق GPS، مواصلات اور دیگر خلائی خدمات پر دنیا کا بڑھتا ہوا انحصار اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔
دوسری جانب امریکی اسپیس فورس کا مؤقف ہے کہ روس اور چین کی خلائی سرگرمیوں کے تناظر میں خلا کو ایک ممکنہ جنگی محاذ کے طور پر دیکھنا اب حقیقت بن چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اپنی صلاحیتوں کے بارے میں واضح مؤقف اختیار کرنا غلط فہمیوں کو کم کرنے اور ممکنہ جارحیت کی روک تھام میں مدد دے سکتا ہے۔
چین نے امریکا کے اس طرزِ عمل پر اعتراض کرتے ہوئے خلا کو عسکری کشیدگی اور ہتھیاروں کی دوڑ سے دور رکھنے پر زور دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ بیجنگ خلا کو میدانِ جنگ بنانے اور وہاں اسلحے کی دوڑ شروع کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔
روس نے بھی خلا کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق روس کی خواہش ہے کہ عالمی برادری خلا کو غیر عسکری رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ 1967 کے Outer Space Treaty کے تحت زمین کے مدار میں جوہری یا دیگر تباہ کن نوعیت کے ہتھیار رکھنے پر پابندی عائد ہے۔ تاہم روایتی ہتھیاروں اور بعض خلائی جنگی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے معاہدے میں وہی واضح ممانعت موجود نہیں، جس کی وجہ سے بڑی طاقتوں کی جانب سے خلائی عسکری صلاحیتوں میں اضافے پر بین الاقوامی بحث جاری ہے۔
خلا میں کسی بھی قسم کی براہِ راست فوجی کارروائی کے ممکنہ اثرات زمین پر موجود سیٹلائٹ، مواصلاتی، نیویگیشن اور دیگر اہم نظاموں تک پہنچ سکتے ہیں، اسی لیے ماہرین عالمی سطح پر خلائی سیکیورٹی کے لیے واضح قواعد اور باہمی اعتماد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔









