لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی ممکنہ بحالی — اہم سفارتی پیش رفت کا امکان

0
27
لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی ممکنہ بحالی — اہم سفارتی پیش رفت کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے براہِ راست مذاکرات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو اسے گزشتہ کئی دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارتی رابطے کی پہلی بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلیٰ سطحی براہِ راست بات چیت کا آخری بڑا مرحلہ 1990 کی دہائی کے آغاز میں دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر رابطے بالواسطہ ذرائع، بین الاقوامی ثالثوں یا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوتے رہے۔
تاریخی طور پر 1991 کی میڈرڈ کانفرنس کو مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کے اہم ترین فورمز میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے بعد واشنگٹن میں 1993 تک مختلف سفارتی رابطے جاری رہے، تاہم کسی حتمی امن معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
لبنان میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تعلقات پر قانونی اور سیاسی پابندیاں بھی موجود رہی ہیں، جبکہ خطے کی داخلی سیاست اور مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ نے بھی براہِ راست مذاکرات کو پیچیدہ بنایا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ زیادہ تر غیر براہِ راست چینلز کے ذریعے ہوتا رہا ہے، جن میں اقوام متحدہ اور دیگر ثالثی کردار شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی کم ہو اور کسی ممکنہ بات چیت کی راہ ہموار ہو سکے۔
اگر یہ سفارتی کوششیں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو ماہرین کے مطابق اس سے خطے میں تناؤ میں کمی اور ممکنہ طور پر امن کی جانب پیش رفت کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply