حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن میں جوابی وار، متعدد مقامات نشانہ

0
9
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن میں جوابی وار، متعدد مقامات نشانہ

ریاض: سعودی عرب نے ملک میں حوثیوں کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد یمن میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے تعز اور مآرب سمیت مختلف علاقوں میں حوثی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی فضائی حملوں میں تعز اور مآرب کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں پہلے ہی کئی روز سے شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے ان فضائی حملوں کی فوری طور پر باضابطہ تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئر بیس اور سعودی توانائی کمپنی آرامکو کی ابہا اور جازان میں موجود تنصیبات پر بیلسٹک میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے ایک ذریعے کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں میں توانائی کے شعبے سے وابستہ متعدد تنصیبات متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بعض سرگرمیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب حوثیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب نے پیر کے روز الجوف کے دارالحکومت الحزم میں ایک جیل کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 20 قیدیوں کے لاپتا ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس الزام پر سعودی حکام کا فوری مؤقف سامنے نہیں آیا۔

سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے، تاہم ملک اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

ماسکو میں روسی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ امن اور مذاکرات کا راستہ اب بھی موجود ہے، لیکن سعودی عرب اپنی سلامتی کے دفاع پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

یمن میں تازہ جھڑپوں نے پہلے سے جاری بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ حوثی بحیرہ احمر کے داخلی راستے کے قریب اہم علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

باب المندب آبنائے کی اہمیت موجودہ صورتحال میں مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کار اینڈریاس کریگ کے مطابق حوثیوں کے حملوں نے سعودی قیادت کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کردی ہے۔ ان کے مطابق ریاض کئی برس سے یمن کے تنازع سے نکلنے کی کوشش کرتا رہا ہے، لیکن سعودی علاقوں پر مسلسل حملوں کا جواب نہ دینا بھی حوثیوں کو مزید کارروائی کی ترغیب دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سعودی ردعمل فی الحال محدود رہنے کا امکان ہے، تاہم اگر سعودی شہروں پر حملوں کا سلسلہ برقرار رہا تو سعودی عرب کے لیے مزید تحمل کا مظاہرہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

دریں اثنا، خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل مارکیٹ پر بھی نمایاں ہوئے ہیں اور سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں کی خبروں کے بعد خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

Leave a reply