جوہری تنصیبات کا معائنہ نہ کرایا تو ڈیل فوراً منسوخ کر دوں گا، ٹرمپ

0
21
جوہری تنصیبات کا معائنہ نہ کرایا تو ڈیل فوراً منسوخ کر دوں گا، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینا ہوگی، بصورت دیگر کسی بھی ممکنہ معاہدے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
پنسلوانیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت مذاکرات میں مضبوط پوزیشن میں نہیں ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران نے جوہری تنصیبات کے اعلیٰ سطحی معائنوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے جوہری سرگرمیوں میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کی فوری ضرورت دکھائی نہیں دیتی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے لیے ممکنہ طور پر دستیاب مالی وسائل کو مخصوص شرائط کے تحت انسانی ضروریات، خوراک اور طبی سامان کی خریداری تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے بعض دعوؤں کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے اضافی معائنوں یا جوہری تنصیبات کے خصوصی دوروں سے متعلق کوئی نیا منصوبہ طے نہیں پایا۔
انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جوہری نگراں ادارے کے ساتھ تعاون پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہے گا اور اس میں کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی جانب سے بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون کو مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا، تاہم انہوں نے معائنہ کاروں کو دی جانیوالی ممکنہ رسائی کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق مذاکرات گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوئے تھے، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات کی نوعیت اور پیش رفت کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔

Leave a reply