اسرائیل کے سابق وزیراعظم کا دعویٰ: ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹارلنک آلات خفیہ طور پر ایران پہنچائے گئے

یروشلم میں ایک پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا جس کے تحت بڑی تعداد میں اسٹارلنک انٹرنیٹ ریسیورز خفیہ طریقے سے ایران پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بینیٹ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد ایران میں ایسے افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنا تھا جو حکومت مخالف سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں میں شریک تھے۔ ان کے بقول، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی برقرار رہنے سے مظاہرین رابطے اور تنظیم سازی جاری رکھ سکتے تھے۔
اسٹارلنک، امریکی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جو روایتی زمینی نیٹ ورک کے بغیر انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ ایران ماضی میں یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ بیرونی طاقتیں ملک کے اندر غیر مجاز مواصلاتی آلات پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگرچہ ایران میں اسٹارلنک کے استعمال کی سرکاری اجازت موجود نہیں، تاہم مختلف مواقع پر اس سروس کے استعمال سے متعلق رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
بینیٹ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ منصوبے کا مقصد ایرانی شہریوں کو بہتر مواصلاتی سہولت فراہم کرنا اور حکومت مخالف تحریکوں کی معاونت کرنا تھا۔ انہوں نے موجودہ اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعد میں اس منصوبے کی رفتار برقرار نہیں رکھی گئی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اسپیس ایکس نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا۔
ایرانی حکام ماضی میں مختلف احتجاجی ادوار کے دوران انٹرنیٹ رسائی محدود کرنے کے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایسی صورتِ حال میں کچھ افراد نے متبادل ذرائع کے طور پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز استعمال کرنے کی کوشش کی۔
اپنے خطاب کے دوران بینیٹ نے ایران کی موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو خطے میں اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کا موجودہ سیاسی نظام مستقبل میں بڑے چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔









