جعلی رسیدوں سے مبینہ فراڈ تک، لائبہ کیس میں پولیس کو اہم سراغ مل گئے

0
14
جعلی رسیدوں سے مبینہ فراڈ تک، لائبہ کیس میں پولیس کو اہم سراغ مل گئے

اسلام آباد: گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نعمان نے طالبہ کی بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی خواہش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی اور اسے جعلی دستاویزات فراہم کیں۔

پولیس کے مطابق لائبہ کی ملزم سے ملاقات ایک جاب انٹرویو کے دوران ہوئی تھی۔ ملزم نے خود کو اسلام آباد میں اعلیٰ عہدے پر فائز افسر ظاہر کیا اور طالبہ کو امریکا میں اسٹڈی ویزے پر بھجوانے کی پیشکش کی۔ اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا۔

والد کا بیان ریکارڈ، ادائیگیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

لائبہ اعجاز کے والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ ملزم کو جی 10 میں 21 لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے، جبکہ 29 لاکھ روپے ان کی بیٹی کے بینک اکاؤنٹ سے ملزم کو منتقل کیے گئے۔

والد کے مطابق ملزم نے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے اکاؤنٹ میں 20 ہزار ڈالر جمع کرانے کی جعلی رسیدیں بھی فراہم کیں۔ بعد ازاں جب رقم کے باوجود بیرون ملک داخلے کا معاملہ آگے نہ بڑھا تو اہل خانہ نے دستاویزات کی تصدیق کرائی، جن کے مبینہ طور پر جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔

خاتون ساتھی کے ملوث ہونے کا بھی دعویٰ

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نعمان کے ساتھ عائزہ نامی لڑکی بھی مبینہ طور پر فراڈ میں شریک تھی، جو لائبہ سے رابطہ کرکے رقم کا مطالبہ کرتی تھی۔

تحقیقات کے مطابق رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیے جانے پر ملزم نے مبینہ طور پر رابطے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔ بعض اوقات وہ خاتون ساتھی کے ذریعے یا خود لڑکی کا روپ دھار کر ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ کرتا رہا۔

بینک ریکارڈ اور موبائل فون کی فرانزک جانچ

پولیس تفتیشی ٹیموں نے ملزم کو کی جانے والی ادائیگیوں کا بینک ریکارڈ حاصل کرلیا ہے، جبکہ ملزم سے برآمد ہونے والا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور ملزم سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

والد نے بیٹی کی ذہنی پریشانی کا ذکر کردیا

لائبہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔ والد کے مطابق ملزم کی جانب سے رابطہ منقطع کیے جانے اور رقم کی واپسی کا معاملہ حل نہ ہونے پر ان کی بیٹی گزشتہ پانچ سے چھ روز سے شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا تھی۔

واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے کردار کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔

Leave a reply