توشہ خانہ کے نئے قواعد، قیمتی تحائف ذاتی تحویل میں رکھنے کی گنجائش محدود

0
0
توشہ خانہ کے نئے قواعد، قیمتی تحائف ذاتی تحویل میں رکھنے کی گنجائش محدود

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق نئے قواعد کے ذریعے سرکاری عہدیداروں کو تحائف کی مقررہ قیمت ادا کرکے اپنے پاس رکھنے کے سابقہ طریقہ کار میں تبدیلی کردی ہے۔ نئے ضابطوں کے تحت قیمتی تحائف کی وصولی، قیمت کے تعین اور فروخت کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے مختلف اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2023 کے طریقہ کار میں 300 ڈالر سے زیادہ مالیت کے تحائف ریاستی ملکیت قرار پاتے تھے، جبکہ 2026 کے نئے قواعد میں تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کرانا اور قابل فروخت اشیا کی کھلی نیلامی کرنا شامل ہے۔

نئے قواعد میں نوادرات اور ثقافتی یا تاریخی اہمیت رکھنے والی اشیا کو نیلامی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قیمتی اور سفارتی لحاظ سے حساس تحائف کو بھی مخصوص شرائط کے تحت نیلامی سے باہر رکھا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں فیصلہ کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کرے گی، جس میں متعلقہ وزارتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ تاہم نیلامی سے استثنیٰ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ تحفہ لازماً وصول کنندہ کی ذاتی ملکیت بن جائے گا۔

تحائف کی قیمت کے تعین کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نجی شعبے کے تخمینہ کار کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ دونوں تخمینوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق کی صورت میں تیسرے ماہر سے رائے لی جائے گی۔ نیلامی کے لیے تین ماہ سے پرانا تخمینہ قابل قبول نہیں ہوگا اور کم از کم قیمت مارکیٹ ویلیو سے کم نہیں رکھی جاسکے گی۔

قواعد کے مطابق سرکاری عہدیدار اور ان کے اہل خانہ نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جبکہ نیلامی کی میڈیا کوریج بھی کی جائے گی۔ تحائف کی قیمتوں اور فروخت کی تفصیلات ماہانہ بنیادوں پر آن لائن جاری ہوں گی، تاہم تحائف دینے والی شخصیات اور ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

نیلامی سے حاصل رقم الگ اکاؤنٹ میں جمع ہوگی اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی ابتدائی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ سالانہ آزادانہ آڈٹ بھی لازم ہوگا۔ نئے نظام کی کامیابی کا انحصار قواعد پر یکساں عمل درآمد اور تحائف کے ریکارڈ کی شفافیت پر ہوگا۔

Leave a reply