
پنجاب کے وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر نے ایڈز سے متعلق حالیہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بروقت اقدامات کیے اور صورتحال کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات بھی کی جائیں گی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایڈز کے کیسز کی نشاندہی سب سے پہلے 2025 میں سرکاری اداروں نے کی تھی۔ بعد ازاں ایک مشترکہ ٹیم تونسہ گئی، جہاں تقریباً 50 ہزار افراد کی سکریننگ کی گئی اور 334 افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ان میں زیادہ تر کیسز مختلف یونین کونسلز سے سامنے آئے، جبکہ متاثرین میں 12 سال سے کم عمر بچے بھی شامل تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقے میں مستقل سکریننگ سینٹر قائم کیا گیا اور دو ماہ کے اندر مؤثر اقدامات کے باعث کیسز کی تعداد کم ہو کر صرف دو رہ گئی۔
وزیر صحت کے مطابق اس معاملے کو دوبارہ اٹھانا غیر ضروری ہے اور بعض نکات حقیقت کے برعکس پیش کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں دکھائی گئی کچھ اشیاء، جیسے سرنجز، سرکاری ہسپتالوں میں استعمال ہی نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کرے گی اور اگر کوئی ذمہ دار پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو متعلقہ ادارے کو بھی جواب دینا ہوگا۔
خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ محکمہ صحت نے 240 عطائیوں کے خلاف کارروائی کی جبکہ 11 مقدمات بھی درج کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے کو تحریری جواب بھی دیا گیا تھا، مگر اسے رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے میں ایڈز کنٹرول پروگرام فعال ہے، طبی مراکز کی نگرانی جاری ہے اور حکومت اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملات کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہیے اور صحت کے شعبے میں شفاف اقدامات جاری رہیں گے۔









