بھائی کو آخری الوداع کہا، دو دن بعد خود دنیا چھوڑ گئیں، ناروے کی شہزادی آسٹرڈ انتقال کر گئیں

0
5
بھائی کو آخری الوداع کہا، دو دن بعد خود دنیا چھوڑ گئیں، ناروے کی شہزادی آسٹرڈ انتقال کر گئیں

اوسلو: ناروے کی شہزادی آسٹرڈ، جو سابق بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی بہن اور ناروے کے سابق بادشاہ اولاف پنجم کی آخری زندہ اولاد تھیں، 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔
شاہی محل نے شہزادی آسٹرڈ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی صحت گزشتہ کچھ عرصے سے خراب تھی۔ رواں سال مارچ میں انہیں نمونیا کے باعث اسپتال میں بھی داخل کیا گیا تھا۔
شہزادی آسٹرڈ نے اپنے بھائی بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی تھی، جو ان کی وفات سے صرف دو روز قبل منعقد ہوئی تھیں۔ یہ تقریب ان کی آخری عوامی مصروفیت ثابت ہوئی۔
ناروے کے نئے بادشاہ ہاکون ہشتم نے اپنی پھوپھی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک شاہی خاندان اور ملک کی خدمت ذمہ داری اور فرض شناسی کے جذبے سے انجام دی۔
شہزادی آسٹرڈ نے کم عمری میں ہی شاہی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ 1954 میں ان کی والدہ ولی عہد شہزادی مارٹھا کے انتقال کے بعد انہوں نے ناروے کی خاتونِ اول کی ذمہ داری سنبھالی۔ وہ 1968 تک اس کردار میں رہیں، جب ان کے بھائی ہیرالڈ کی شادی ہوئی۔
شاہی خاندان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہزادی آسٹرڈ نے خاص طور پر کمزور اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے کام کیا اور مختلف سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں شاہی خاندان کی نمائندگی کرتی رہیں۔
ناروے کے وزیر اعظم جوناس گار ستورے نے اعلان کیا ہے کہ شہزادی آسٹرڈ کی آخری رسومات سرکاری اخراجات پر ادا کی جائیں گی۔ ان کے احترام میں ملک بھر میں قومی پرچم بھی سرنگوں رکھا جائے گا۔
شہزادی آسٹرڈ کی وفات ایسے وقت ہوئی ہے جب ناروے کا شاہی خاندان حالیہ برسوں میں متعدد ذاتی اور عوامی معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ناروے کی شاہی تاریخ کی ایک اہم شخصیت کا طویل عوامی دور بھی اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

Leave a reply