
پاکستان میں مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، قومی معیشت کو سہارا دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ پہلی بار ملک میں کرپٹو کرنسی (ڈیجیٹل اثاثوں) کے لین دین پر ٹیکس عائد کرنے اور اسے قانونی دائرہ کار میں لانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے تیار کی جانے والی مجوزہ پالیسی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
کرپٹو کرنسی پر ٹیکسیشن فریم ورک کی تیاریاں
وفاقی حکومت ایک ایسا قانونی اور ٹیکسیشن ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے جس کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں محفوظ سرمایہ کاری کے ماحول کو فروغ دینا اور غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانا ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت درج ذیل امور پر ٹیکس عائد کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے:
کرپٹو کرنسی کے سودوں کی مجموعی مالیت (ٹوٹل ٹرانزیکشن والیوم)۔
ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والا منافع۔
صارفین کے پاس موجود ڈیجیٹل اثاثوں کی مجموعی مالیت۔
بیرون ملک مقیم اثاثے: حکومت کے لیے بڑا چیلنج
سرکاری ذرائع کا تسلیم کرنا ہے کہ جہاں ملک کے اندر کرپٹو ٹرانزیکشنز کو مانیٹر کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے، وہی پاکستانی شہریوں کی جانب سے بیرون ملک رکھے گئے کرپٹو اثاثوں کا سراغ لگانا، ان کی مالیت کا تعین کرنا اور انہیں قومی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ اور بڑا چیلنج ہوگا۔
پاکستان میں کرپٹو کے پھیلاؤ کی صورتحال (فیڈرل ٹیکس محتسب کی رپورٹ)
فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کی مقبولیت کے حوالے سے اہم ترین حقائق سامنے آئے ہیں:
عالمی صارفین: دنیا بھر میں اس وقت ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 56 کروڑ ہو چکی ہے۔
پاکستانی مارکیٹ: ان عالمی صارفین میں سے 90 لاکھ کا تعلق پاکستان سے ہے۔
عالمی درجہ بندی: ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کرپٹو کرنسی اپنانے اور اس کا استعمال کرنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن چکا ہے۔
معاشی ماہرین کی آرا
معاشی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی جیسے جدید، غیر مرکزی (Decentralized) اور پچیدہ نظام کی نگرانی کرنا اور اس پر ٹیکس لاگو کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ تاہم، اگر حکومت ایک جامع، شفاف اور آسان پالیسی وضع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اس سے نہ صرف قومی خزانے کی آمدنی میں خطیر اضافہ ہوگا بلکہ اس بڑے اور ابھرتے ہوئے شعبے کو ریگولیٹ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔








