
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ داخلہ نے پاکستان میں بغیر کارآمد ویزا مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام صوبائی حکومتوں، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق 10 جولائی سے ایسے تمام افغان شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی جو مؤثر ویزا کے بغیر پاکستان میں موجود ہیں۔ متعلقہ اداروں کو غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی گرفتاری اور ملک بدری کی مہم تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کی پیش رفت سے وزارتِ داخلہ کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کیا جائے گا تاکہ مہم کی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے۔ تمام متعلقہ اداروں کو احکامات پر فوری اور مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر حملے کے مقدمے میں گرفتار زخمی ملزم نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم نے اپنے ساتھیوں، حملے کی منصوبہ بندی اور مبینہ تربیت سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے ہے اور اسے افغانستان میں تربیت دی گئی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ حملے میں شامل دیگر افراد میں سے ایک مارا جا چکا ہے جبکہ حملے کے لیے اسلحہ اور دیگر انتظامات پہلے سے کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ گرفتار ملزم کے بیانات تفتیش کا حصہ ہیں اور ان دعوؤں کی تصدیق متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔








