
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نےبہاولپور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی،وفد کی قیادت صدرسردار عبدالباسط ایڈووکیٹ نے کی،ملاقات میں عدلیہ اور بار کی مضبوطی کے لئے اکٹھے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا
،ملاقات میں غریب عوام کو جلد انصاف فراہم کرنے میں ہرممکن تعاون کا اعادہ کیا گیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہاجلد اور معیاری انصاف کی فراہمی عدالت عالیہ لاہور کی اولین ترجیح ہے،وکلاء فراہمی انصاف کے نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے ہمارے شانہ بشانہ کام کریں،وکلا ء اور عدلیہ کو آپس میں لڑوانے کی ہر سازش کو عدلیہ اور وکلاء مل کر ناکام بنائیں گے،
بنچ اور بار کو کمزور کرنے کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا،نوجوان وکلاء کی فلاح کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، وکلاء ہڑتال کلچر کی حوصلہ شکنی کریں،وفد نے چیف جسٹس کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپورکے جلد از جلد دورہ کی دعوت دی،وکلاء نے چیف جسٹس کوبہاولپور ڈویژن کی بار ایسوسی ایشنز کو درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا،وفد کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن رحیم یار خان کے لئے نئے جوڈیشل کمپلیکس کے لئے فنڈز کے اجراء کی درخواست کی گئی،
صدر ہائیکورٹ بار بہاولپور نے کہا کہ بہاولپور بنچ پر ججوں کی تعداد کم ہونے سے زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے،لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بنچ پر ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے،وفد نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی میں بہاولپور بار سے وکلاء کی نامزدگیوں کی بھی تجویز دی،
صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے یقین دہانی کروائی کہ بہاولپور ڈویژن کی کوئی بھی بار عدلیہ یا بار کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنے گی،سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔









