باب المندب کے قریب حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، بحری تجارت اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

0
42
باب المندب کے قریب حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، بحری تجارت اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

صنعا: یمن میں ایران نواز حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کے درمیان واقع اہم سمندری گزرگاہ باب المندب کے قریب اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی ذرائع کے مطابق حوثی فورسز نے جزیرہ میون، جسے پیرم بھی کہا جاتا ہے، اور ساحلی علاقے ذباب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ المخا بندرگاہ، ایئرپورٹ اور خالد بن ولید فوجی تنصیب بھی حوثیوں کے قبضے میں چلی گئی ہے۔

اس پیش رفت کے بعد یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گریٹر حنیش اور لِسر حنیش سمیت بعض دیگر علاقوں میں بھی حکومت مخالف فورسز نے اپنی موجودگی قائم کرلی ہے۔

حوثی قیادت نے سرکاری فوج کے اہلکاروں کو ہتھیار چھوڑنے کی صورت میں عام معافی دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے بڑے رقبے میں پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد فوجی مقامات پر مخالف گروہوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے منسلک تیل بردار جہازوں کے علاوہ دیگر عالمی کمپنیوں کے بحری جہازوں کے لیے مذکورہ سمندری راستہ محفوظ رہے گا۔

ایران نے یمن کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق یمن میں مزید فوجی کشیدگی مسئلے کا حل نہیں، جبکہ تہران مذاکرات کی بحالی میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

ادھر خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے درمیان بھی مشاورت جاری ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت نے واشنگٹن سے حوثیوں کے خلاف مزید عسکری کارروائی کی درخواست کی، تاہم امریکی انتظامیہ نے براہِ راست نئے فوجی محاذ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی ترجیح بحیرۂ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت اور اپنے بنیادی سیکیورٹی مفادات کا تحفظ ہے، جبکہ اتحادی ممالک کو سیکیورٹی معاملات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس اور تکنیکی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

بحران کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق عراق سے ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک کر اس کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عراق میں بھی ان ڈرون حملوں کی تحقیقات کے نتیجے میں ایک اعلیٰ فوجی افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب جیسے اہم بحری راستے پر خطرات بڑھنے سے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر مزید دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Leave a reply