ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد مثبت قرار، پاکستان کی امن کوششوں کی تعریف

0
9
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد مثبت قرار، پاکستان کی امن کوششوں کی تعریف

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد کو مثبت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے تعاون اور دوستانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل تجویز پیش کر دی ہے اور اب توجہ اس بات پر ہے کہ امریکا سفارتی عمل میں کس حد تک سنجیدہ رویہ اختیار کرتا ہے۔
عباس عراقچی نے دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر بھی شریک تھے۔ ملاقات میں جنگ بندی، علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کو خوشگوار اور مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق بات چیت میں دوطرفہ روابط، اقتصادی و سیکیورٹی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال زیر بحث آئی۔ عباس عراقچی نے ایران کی قیادت، بشمول سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے جنگ بندی میں سہولت کاری اور مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔
دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے آرمی چیف عاصم منیر سے الگ ملاقات بھی کی، جس میں سیکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ اس دورے کا مقصد پاکستان کی ثالثی کوششوں پر مشاورت کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست ملاقات طے نہیں، تاہم ایران اپنے مؤقف پاکستان کے ذریعے پہنچائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مذاکراتی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی نمائندے، جن میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، اب پاکستان نہیں جائیں گے۔
اس پیش رفت کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

Leave a reply