ایران کے خلاف آئندہ اقدام پر فیصلہ قریب ہے، ٹرمپ

0
9
ایران کے خلاف آئندہ اقدام پر فیصلہ قریب ہے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکا ایک اہم فیصلے کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم موجودہ صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتی ہے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطہ جاری ہے اور تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا نے خلیج میں اپنے اتحادی ممالک کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے رہنماؤں سے ملاقات ہوگی، جس میں ایران سے متعلق صورتحال پر ان کی رائے بھی معلوم کی جائے گی۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ نیویارک میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات متوقع ہے۔

ایران پر دباؤ کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں اور حالیہ عرصے میں ایران جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو سال کے اختتام تک موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ صورتحال بگڑنے کی صورت میں واشنگٹن کے پاس فوجی کارروائی کے لیے مناسب صلاحیت موجود رہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اس وقت ایران کے معاملے میں سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور بحری نگرانی سمیت مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمی بھی بڑھی ہے، تاہم خطے میں تجارتی آمدورفت اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم بتائی جاتی ہے۔

ٹرمپ نے اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا کہ ایران کے بارے میں حتمی فیصلہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہوگا یا اس کے بعد۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرحلے پر یہ طے کرنا ضروری ہوگا کہ اس معاملے کا حتمی مقصد کیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطوں سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کی آزادانہ طور پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے۔

Leave a reply