ایران کی خلیجی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

0
45
ایران کی خلیجی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان توانائی تنصیبات کو لے کر تناؤ شدت اختیار کر گیا۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنوبی علاقے بوشہر کے قریب واقع مشترکہ گیس فیلڈ South Pars gas field پر مبینہ حملے کے بعد ردعمل میں خلیجی ممالک کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات کی ہے۔

برطانوی اخبار The Guardian کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسوب بیانات میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود متعدد توانائی مراکز ممکنہ ہدف ہو سکتے ہیں۔ ان میں سعودی عرب کی SAMREF ریفائنری اور جبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس، متحدہ عرب امارات کے بعض گیس اور توانائی مراکز، جبکہ قطر کے راس لفان اور میسعید کے صنعتی و گیس کمپلیکس شامل بتائے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق South Pars gas field پر حالیہ حملے کے بعد آگ لگنے اور نقصان کی رپورٹس سامنے آئیں، تاہم ایرانی حکام نے کہا ہے کہ صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب قطر نے راس لفان گیس فیسلٹی پر حملے کی اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے عالمی توانائی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان Majed Al-Ansari نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

سابق امریکی صدر Donald Trump سے منسوب بیانات میں بھی اس صورتحال پر تبصرہ کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض کارروائیاں خطے کی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

توانائی مراکز کو نشانہ بنانے کی ان خبروں اور جوابی دھمکیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز Strait of Hormuz میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین پر بھی دباؤ ڈال دیا ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات اور عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Leave a reply