ایران کا نیا ہتھیار جلد منظر عام پر لانے کا دعویٰ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور بعض سفارتی بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ اس دوران ایرانی بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جلد ایک نیا فوجی ہتھیار سامنے لانے والا ہے جس سے اس کے مخالفین متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایرانی بحریہ کے سربراہ کے مطابق یہ نیا نظام ایسا ہوگا جو دشمن کے مقابلے میں براہِ راست توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری پیش رفت کو دیکھتے ہوئے مخالف قوتوں میں تشویش پائی جاتی ہے، اور انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امید ہے اس پیش رفت پر امریکا کو کسی قسم کی شدید طبی کیفیت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ماضی میں خطے میں ہونے والی کشیدگی کے دوران ایرانی افواج نے مختلف جوابی کارروائیاں کیں اور متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے اپنے بعض مقاصد میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ صورتحال خطے کے امن کے لیے حساس بنی ہوئی ہے۔









